امریکی ریاست اوہائیو کے قریب دوران پرواز پائلٹس کو ایک عجیب و غریب فضائی شے نظر آئی، جس کی شکل کیپسول جیسی اور سطح چاندی کی طرح چمکدار تھی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ طیارے کے قریب موجود اس شے کا ایئر ٹریفک کنٹرول کے ریڈار پر کوئی سراغ نہیں ملا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل یو ایف او رپورٹنگ سینٹر نے 26 اکتوبر کو اس واقعے کی تفصیلات جاری کیں، جو 16 اگست کو پیش آیا تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق دوران پرواز پائلٹس نے فضا میں ایک غیر معمولی شے دیکھی جو بظاہر ایک ہی جگہ ساکن دکھائی دے رہی تھی۔ جب طیارہ اس کے قریب پہنچا تو عملے نے فوری طور پر ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا، تاہم کنٹرول روم کی جانب سے بتایا گیا کہ ریڈار پر نہ کسی دوسرے طیارے کی موجودگی ظاہر ہورہی ہے اور نہ ہی کسی نامعلوم فضائی شے کا کوئی نشان موجود ہے۔
واقعے کے دوران ایک پائلٹ نے اس پراسرار شے کی تصویر بھی بنائی، جو بعد ازاں یو ایف او تفتیش کار بین ہینسن نے پائلٹ کے انٹرویو کے دوران حاصل کی۔
تفتیشی رپورٹ میں پائلٹ کی شناخت صرف حرف ’جے‘ سے ظاہر کی گئی ہے۔ پائلٹ کے مطابق اس شے کی سطح انتہائی ہموار اور چاندی کی طرح چمکدار تھی، جبکہ اس کی ساخت کسی کیپسول سے مشابہ تھی۔ اس پر نہ کوئی شکن دکھائی دے رہی تھی اور نہ ہی کوئی جوڑ یا نچلا حصہ پتلا نظر آرہا تھا۔
پائلٹ کا کہنا تھا کہ طیارے کا تصادم روکنے والا وارننگ سسٹم اور فلائٹ ٹریکنگ ایپ بھی کسی دوسرے طیارے کی موجودگی ظاہر نہیں کررہے تھے۔ دوسری جانب کلیولینڈ سینٹر کے ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے بھی ریڈار پر کسی نامعلوم شے کی موجودگی سے لاعلمی ظاہر کی۔
پائلٹ نے قیاس ظاہر کیا کہ ممکن ہے یہ پراسرار شے ان گرج چمک والے بادلوں سے نمودار ہوئی ہو جن کے درمیان سے طیارے کا عملہ گزرنے کی کوشش کررہا تھا۔
تاہم انہوں نے اس امکان پر بھی سوال اٹھایا کہ آیا کوئی عام غبارہ ایسے شدید موسمی حالات میں برقرار رہ سکتا تھا؟ ان کے مطابق بادلوں میں داخل ہونے کے بعد طیارے کے انجن پر برف جمنے لگی تھی اور اسے درمیانے درجے کے فضائی جھٹکوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تصویر سامنے آنے اور پائلٹس کے بیان کے باوجود اس فضائی شے کی اصل شناخت تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔ فی الحال ایسا کوئی مستند ثبوت بھی سامنے نہیں آیا جس سے اسے خلائی مخلوق یا کسی غیر معمولی فضائی ٹیکنالوجی سے جوڑا جاسکے۔