دنیا کے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے سائبر حملے میں چوری ہونے والے ڈیجیٹل اثاثوں کے نقصان کا بیشتر حصہ پورا کرنے کے بعد بٹ کوائن سمیت متعدد کرپٹو کرنسیز کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع کردیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بائنانس نے اعلان کیا ہے کہ چوری شدہ اثاثوں کے مجموعی نقصان کا تقریباً 95 فیصد پورا کرلیا گیا ہے۔ کمپنی نے ابتدائی مرحلے میں 15 کرپٹو اثاثوں کی واپسی کی سہولت بحال کی ہے۔
بحال ہونے والی کرپٹو کرنسیز میں بٹ کوائن، ایتھریم، بی این بی، سولانا، ایکس آر پی اور ڈوج کوائن سمیت دیگر ڈیجیٹل ٹوکن شامل ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بائنانس نے صارفین کے نقصان کی تلافی کے لیے اپنے 6 ارب ڈالر کے فنڈز استعمال کیے۔ واپسی کا پہلا مرحلہ صبح 6 بجے سے 9 بجے جی ایم ٹی کے درمیان شروع کیا گیا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ باقی 5 فیصد نقصان سے متعلق اثاثوں میں وہ کرپٹو کرنسیز شامل ہیں جن کی خرید و فروخت محدود ہے۔ ان کی مطلوبہ مقدار حاصل کرنے اور صارفین کو رقوم واپس کرنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے اس سائبر حملے کا الزام شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر پر عائد کیا ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق گروپ کے ارکان نے چوری شدہ ڈیجیٹل اثاثوں کو ایتھریم میں تبدیل کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام کو خدشہ ہے کہ چوری شدہ رقوم کو چھپانے اور منتقل کرنے کے لیے مزید تکنیکی طریقے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
تاہم شمالی کوریا نے ریاستی سرپرستی میں سائبر حملوں اور مالی چوری میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ بائنانس کی جانب سے رقم کی واپسی اور کرپٹو اثاثوں کے اجرا کی بحالی کو متاثرہ صارفین کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔