وزارتِ سیاحت میں اربوں کی بندر بانٹ کا ہولناک ڈراپ سین: کٹھ پتلی وزیر کے پیچھے چھپے ماسٹر مائنڈ مولانا فضل الرحمان کے بھیانک کردار کا سنسنی خیز انکشاف
Home - آزاد سیاست - وزارتِ سیاحت میں اربوں کی بندر بانٹ کا ہولناک ڈراپ سین: کٹھ پتلی وزیر کے پیچھے چھپے ماسٹر مائنڈ مولانا فضل الرحمان کے بھیانک کردار کا سنسنی خیز انکشاف
سابق وفاقی وزیرِ سیاحت مولانا عطا الرحمان کے دورِ وزارت میں خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف سیاحتی مقامات پر سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ اور محکمے کے ترقیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کی سنگین تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اپوزیشن حلقوں اور سیاسی ناقدین کی جانب سے یہ دعویٰ شدت اختیار کر گیا ہے کہ وزارت کے ان تمام متنازع اقدامات کے پیچھے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی براہِ راست سیاسی پشت پناہی اور مصلحت پسندانہ پالیسی کارفرما تھی۔
ذرائع کے مطابق، عطا الرحمان کے دورِ وزارت میں خیبر پختونخوا کے اہم سیاحتی زونز، گلیات، اور دیگر پرکشش مقامات پر سرکاری اراضی اور ریسٹ ہاؤسز کو من پسند کمرشل گروپس اور قریبی سیاسی اتحادیوں کو کوڑیوں کے داموں مبینہ طور پر لیز اور الاٹ کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ سیاسی مخالفین کا موقف ہے کہ یہ فیصلے محکمے کی ترقی کے لیے نہیں بلکہ پارٹی کے مخصوص حلقوں کو مالیاتی فوائد پہنچانے کے لیے کیے گئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان الاٹمنٹس کی منظوری کے لیے وزارت پر اعلیٰ ترین سیاسی قیادت کا دباؤ تھا۔
رپورٹ کے مطابق، وزارتِ سیاحت کے پاس موجود اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کا ایک بڑا حصہ مبینہ طور پر صرف ان مخصوص علاقوں اور حلقوں کی طرف موڑ دیا گیا جہاں جے یو آئی (ف) کا سیاسی اثر و رسوخ قائم تھا جبکہ دیگر حقدار سیاحتی مقامات کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق، فنڈز کی اس غیر مساوی تقسیم کا بنیادی مقصد مولانا فضل الرحمان کے سیاسی نیٹ ورک کو سرکاری وسائل کے ذریعے مضبوط کرنا تھا۔
سیاسی مبصرین اور تحقیقاتی حلقوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات میں یہ نکتہ سب سے اہم ہے کہ عطا الرحمان محض وزارتی منصب پر فائز تھے، جبکہ وزارت کے تمام سٹرٹیجک فیصلے، فنڈز کی منظوری اور اراضی کے معاملات کی پسِ پردہ نگرانی خود مولانا فضل الرحمان کر رہے تھے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اپنے بھائی کی وزارت کو سیاسی سودے بازی اور اپنے دھڑے کو نوازنے کے لیے بطور آلہ کار استعمال کیا، جس کی وجہ سے محکمے کو بھاری مالیاتی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب، جے یو آئی (ف) کے ترجمانوں اور مولانا عطا الرحمان نے ماضی میں ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور انھیں سیاسی انتقام پر مبنی کردار کشی قرار دیا ہے۔ تاہم، ناقدین کا اصرار ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور آڈٹ کے ریکارڈز ان بے ضابطگیوں کی واضح نشاندہی کرتے ہیں، جس کا اصل ذمہ دار پارٹی کی مرکزی قیادت کو ٹھہرایا جانا چاہیے