چین کا سپر ہیومن روبوٹ، طاقت اور مہارت میں انسان کو چیلنج

چین کا سپر ہیومن روبوٹ، طاقت اور مہارت میں انسان کو چیلنج

چین کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے مصنوعی ذہانت سے لیس 13 فٹ طویل ہیومنائیڈ روبوٹ متعارف کروا دیا ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک طرف 500 کلوگرام تک وزن اٹھا سکتا ہے تو دوسری جانب سوئی میں دھاگا ڈالنے جیسے انتہائی باریک کام بھی انجام دے سکتا ہے۔

بیجنگ میں قائم کمپنی نیوڈرا ڈائنامکس کے مطابق، نیو 1 نامی یہ روبوٹ خاص طور پر صنعتی شعبے میں بھاری اور مشکل کاموں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ روبوٹ اپنے دونوں بازوؤں کی مدد سے ایک چھوٹی گاڑی یا مکمل گائے کے برابر وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کمپنی کے بانی یانگ تاؤ کا کہنا ہے کہ مستقبل کے روبوٹس کو صرف انسانوں کی ظاہری شکل کی نقل تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں جسمانی صلاحیتوں میں انسانوں سے آگے بڑھ کر کام کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:بائنانس کا بڑا اعلان، چوری شدہ کرپٹو اثاثوں کا 95 فیصد نقصان پورا

تقریباً 1.2 میٹرک ٹن وزنی اس روبوٹ میں عام الیکٹرک موٹرز کے بجائے ہائیڈرولک ایکچیویٹرز استعمال کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے اسے غیر معمولی جسمانی طاقت فراہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق، روبوٹ کی انگلیوں کے سروں کی درستگی 0.01 ملی میٹر تک ہے، جس کے باعث یہ بھاری کاموں کے ساتھ انتہائی باریک اور حساس نوعیت کے کام بھی انجام دے سکتا ہے۔

صنعتی شعبے میں کہاں استعمال ہوگا؟

 کو رواں ماہ منعقد ہونے والے چائنا انٹرنیشنل انڈسٹری فیئر 2026 میں پیش کیا گیا۔ اسے بھاری مشینری کی تیاری اور اسمبلی، کان کنی، جبکہ قدرتی آفات کے بعد ملبہ ہٹانے جیسے مشکل کاموں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

نیوڈرا ڈائنامکس کا کہنا ہے کہ ہائیڈرولک اور الیکٹرک ٹیکنالوجی کو یکجا کرنے سے روبوٹس کی طاقت اور پائیداری سے متعلق کئی بنیادی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

کمپنی اپنی ویب سائٹ پر نیو1 کو سپر ہیومنائیڈ روبوٹ قرار دیتی ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مجسم مصنوعی ذہانت کی مزید ترقی کے بعد مستقبل میں ایسے روبوٹس کو گھریلو استعمال کے لیے بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔

صلاحیتوں کے دعوے، لیکن عملی مظاہرہ ابھی باقی

اگرچہ کمپنی نے روبوٹ کی غیر معمولی طاقت اور باریک کام کرنے کی صلاحیت کے بڑے دعوے کیے ہیں، تاہم اب تک ان صلاحیتوں کا مکمل عملی مظاہرہ سامنے نہیں آیا۔ صنعتی نمائش کے دوران پیش کیے گئے ماڈل میں روبوٹ کے اعضا کی محدود حرکت دکھائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:الیکٹرک کاریں، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت: جرمنی کی ہائی ٹیک انڈسٹری میں پاکستانی انجینئرز کی دھوم

دوسری جانب چین میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس کی تیاری اور استعمال کو قومی اقتصادی حکمت عملی میں اہم مقام حاصل ہے۔ ملک کے قومی ادارۂ شماریات کے مطابق، چین کی صنعتوں میں پہلے ہی 20 لاکھ سے زائد صنعتی روبوٹس کام کر رہے ہیں۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کی گزشتہ ماہ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں فیکٹریوں کے لیے نصب کیے جانے والے نئے روبوٹس میں چین کا حصہ 59 فیصد ہے۔ چین دنیا بھر میں ہیومنائیڈ روبوٹس تیار کرنے والی نصف سے زیادہ کمپنیوں کا مرکز بھی بن چکا ہے۔

editor

Related Articles