مولوی فضل الرحمان 73 کے آئین کے تناظر میں 74 قسم کے کرپشن کے فارمولے اب نہیں چلیں گے ، فیاض الحسن چوہان

مولوی فضل الرحمان 73 کے آئین کے تناظر میں 74 قسم کے کرپشن کے فارمولے اب نہیں چلیں گے ، فیاض الحسن چوہان

سینئر سیاستدان فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ فضل الرحمان کی اقتدار سے دوری دن بدن ان کا ذہنی توازن خراب کر رہی ہے، وہ سخت ڈپریشن میں ہیں اور مایوسی کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ وہ اقتدار کی مسند پر فائز نہیں ہو پا رہے، ان کا بھائی اور بیٹا بھی اقتدار تک نہیں پہنچ رہا، ان کا دکھ یہی ہے کہ وہ اقتدار سے باہر کیوں ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے فضل الرحمان کا ہر قسم کا منفی رویہ، اینٹی پاکستان، اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی اخلاقیات ان کے ہر قول و فعل میں نظر آئے گا۔ شہدا کا ٹھٹھا کرنا، شہدا پر طنز کرنا، پاکستان کے شہدا اور غازیوں پر الزامات لگانا، طالبان کے ساتھ پینگیں بڑھانا اور ٹی ٹی پی سے قربتیں بڑھانا، اس کی وجہ یہ ہے کہ بلیک میل کرکے کچھ لو اور کچھ دو کا فارمولا چلایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 1973 کے آئین کے تناظر میں 74 قسم کے طور طریقوں کا ان کا فارمولا نہیں چل رہا۔ ہر آنے والے دن ان کی ریاست پاکستان سے نفرت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ انہیں سمجھ آ گیا ہے کہ اگر عالمی ملک دشمن طاقتوں کی ہمدردی اور سپورٹ لینی ہے تو پھر وہی بیانیہ بنانا پڑے گا جو قیدی نمبر 420 نے رکھا۔ اگلوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے سوشل میڈیا کے ذریعے گولڈ اسمتھ کی چھتری تلے صیہونی طاقتوں کے ذریعے مقبول بنا دیا گیا۔ بظاہر وہ بھی اپنا نام بڑا کرنے کے لیے پاکستان کے اندر اینٹی پاکستان سرگرمیوں میں لگے ہیں اور صبح، دوپہر، شام اسمبلی میں ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ دل چاہتا ہے کہ ان کی ہر چیز کھول کر رکھ دی جائے، لیکن اخلاقیات کی حدود بھی ہیں۔ وہ ان کے بارے میں ایسی ایسی چیزیں جانتے ہیں کہ بتائیں تو بھونچال آ جائے۔ انہیں تکلیف ہے کہ گورنر راج میں انہیں حصہ نہیں دیا گیا اور ان کا سمدھی کہیں فٹ نہیں ہوا، اصل غصہ یہی ہے۔

تجاوزات کے خلاف آپریشن پر تنقید

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ریاست کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گورنر راج لگنے کے بعد وہاں کی انتظامیہ نے طے کیا کہ پشاور اور خیبر پختونخوا کے بڑے شہروں میں موجود تجاوزات اور 13 سال کا گند ختم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو فضل الرحمان کی جماعت جے یو آئی کا سیکرٹریٹ بھی اس کی زد میں آ گیا، جو 55 فٹ تجاوز کرکے بنایا گیا ہے۔ ان کے بقول سرکاری زمین پر کئی مراحل میں تجاوز کیا گیا ہے اور قبضہ کیا ہوا ہے۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ موجودہ گورنر نے طے کیا ہے کہ رنگ روڈ پر سے تجاوزات ختم کرنی ہیں، انہیں اس بات کا بھی غصہ ہے کہ ان کی قبضے والی زمین کیوں چھڑائی جا رہی ہے۔ سہارا آئین، قانون اور نظریے کا لیا جاتا ہے، لیکن ریاست ماں جیسی ہوتی ہے اور ایسی ماں پر تھو۔

مولانا فضل الرحمان پر سخت الفاظ میں تنقید

فیاض الحسن چوہان نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور ماں کو تھو کہنے کا کیا مطلب ہے، ریاست نے کیا نہیں دیا؟ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی سوچ، نظریے، منافقت اور مذہب کو استعمال کرکے سیاست کرنے پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ 1973 کے آئین کے تناظر میں 74 قسم کے کرپشن کے طریقے ایجاد کرنے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے افغان طالبان کے ساتھ دوستی، ٹی ٹی پی کے ساتھ محبت، امریکی سفیر کے پیروں میں بیٹھ کر وزارت عظمیٰ مانگنے اور ڈیل کرکے اقتدار کے مزے لوٹنے سے متعلق بھی بات کی ۔فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اسلام کا نام استعمال کرکے اسلام کے نظام سیاست کو بدنام کیا گیا ہے۔

خاندان اور سیاسی عہد ے

فیاض الحسن چوہان نے مولانا فضل الرحمان کے خاندان سے متعلق بھی سخت الفاظ استعمال کیے اور ان کے آباؤ اجداد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دادا گڈریے اور چرواہے تھے اور افغانستان سے بکریاں چراتے چراتے ادھر آئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے حوالے سے تصاویر آج بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست نے ان کے والد کو وزیراعلیٰ بنایا، ان جیسے آدمی کو صدا بہار ایم این اے بنایا، وہ ہر دور میں قائد حزب اختلاف رہے اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔ انہوں نے کہا  کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ پر 50 لاکھ کی لسی ڈکار گئے، اسی کے نام پر بیرون ملک دورے  ملک دورے کیے اور کالے کرتوتوں کی ویڈیوز آج بھی محفوظ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی تصاویر بیرون ملک خفیہ ایجنسیوں کے پاس ہیں۔فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ ریاست نے ان کے 15 بندوں کو ہر دور میں  ایم پی اے اور ایم این اے بنایا ہے سورا وی جوائی وی دھی تے پرجائی وی ۔

editor

Related Articles