سرکاری محکمے کو ذاتی جاگیر بنانے کا ہولناک انکشاف کٹھ پتلی وزیر عطا الرحمان کی قلم سے ہونے والی بھرتیوں کی بلیک لسٹ فضل الرحمان کی رہائش گاہ سے تیار ہونے کا بڑا راز کھل گیا
Home - آزاد انتخاب - سرکاری محکمے کو ذاتی جاگیر بنانے کا ہولناک انکشاف کٹھ پتلی وزیر عطا الرحمان کی قلم سے ہونے والی بھرتیوں کی بلیک لسٹ فضل الرحمان کی رہائش گاہ سے تیار ہونے کا بڑا راز کھل گیا
سابق وفاقی وزیرِ سیاحت مولانا عطا الرحمان کے دورِ وزارت میں میرٹ کا بدترین قتل عام کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر سیاسی اور غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں۔
ان بھرتیوں کا بنیادی مقصد جے یو آئی (ف) کے سیاسی ورکرز اور من پسند افراد کو سرکاری خزانے پر مستقل بوجھ بنانا تھا۔ ان بھرتیوں میں اہلیت اور قابلیت کے تمام مروجہ قوانین کو یکسر مسترد کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں وزارتِ سیاحت اور اس کے ذیلی ادارے نااہل افراد کا گڑھ بن کر رہ گئے۔
اس ہولناک اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی کا سارا ملبہ براہِ راست جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر گرتا ہے۔ تحقیقاتی حلقوں اور سیاسی مبصرین کے مطابق عطا الرحمان کی اتنی سیاسی جرات نہیں تھی کہ وہ اتنے بڑے پیمانے پر قانون کو بائی پاس کر سکتے
اس پورے کھیل کے اصل ڈائریکٹر اور پسِ پردہ مینیجر مولانا فضل الرحمان خود تھے۔ انہوں نے اپنے بھائی کی وزارت کو جے یو آئی (ف) کے سیاسی دھڑے اور مدارس کے نیٹ ورک سے وابستہ مخصوص افراد کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے بطور آلہ کار استعمال کیا۔
سرکاری محکموں میں خالی اسامیوں پر کوئی کھلا اشتہار نہیں دیا گیا اور نہ ہی کوئی شفاف ٹیسٹ یا انٹرویو کا عمل اپنایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بھرتیوں کی باقاعدہ فہرستیں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ سے تیار ہو کر وزارتِ سیاحت پہنچتی تھیں، جہاں عطا الرحمان صرف دستخط کرنے والے مہرے کا کردار ادا کر رہے تھے۔
ان غیر قانونی بھرتیوں کی وجہ سے قومی خزانے کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا، جبکہ ملک کے تعلیم یافتہ اور حقدار نوجوانوں کے حقوق پر شرمناک طریقے سے ڈاکہ ڈالا گیا۔ مولانا فضل الرحمان کی اس سیاسی ڈائریکشن نے ایک پورے وفاقی محکمے کے انتظامی ڈھانچے کو تباہ کر کے رکھ دیا۔