خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع بنوں اور وزیرستان کے خصوصا فضل الرحمن کے اپنے حلقے کے لوگ جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ کی دوغلی سیاست اور دہرے معیار پر پھٹ پڑے ۔
عوام نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ فضل الرحمان نے بنوں اور وزیرستان کو سی پیک سے محروم رکھا، اپنے گاؤں میں انٹرچینج بنا کر زمینیں خرید لیں اور جنوبی اضلاع کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔
عوام کہتے ہیں کہ فضل الرحمان نے سی پیک منصوبے سے بنوں اور وزیرستان کو باہر رکھا۔ ٹانک اور ڈی آئی خان کو اس لیے شامل کیا کہ وہاں سے الیکشن لڑتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے گاؤں میں سی پیک موٹروے کا انٹرچینج بنوایا تاکہ ذاتی فائدہ ہو ، موٹروے کے ارد گرد جتنی زمین تھی سب خرید لی اور دوستوں کے نام پر بھی لے لی ، اس کا کام صرف جائیداد بنانا ہے، عوام کا کوئی کام نہیں۔
فضل الرحمن کے اپنے حلقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ 1972 سے لوگ اسے جانتے ہیں جہاں مفاد نظر آئے وہیں پہنچ جاتا ہے ، جہاں سب ٹھیک ہو وہاں رات گزارتا ہے، ورنہ چپ رہتا ہے، صرف دولت جمع کرتا ہے، دین اور عوام دونوں سے بے تعلق ہے۔ موقع ملا تو خزانہ لوٹتا ہے اور دین بیچتا ہے۔
عوام نے غم وغصے کا اظہار کرتے کہا کہ آج بنوں میں آپریشن جاری ہے، پشتون علاقوں میں بے گناہ لوگ مر رہے ہیں، جنوبی اضلاع میں حالات بدترین ہیں مگر وہ آرام سے بیٹھا ہے۔ ساری عمر بنوں، لکی مروت اور ٹانک سے پاس ہوتا رہا، لوگوں نے عزت دی اور ممبر بنایا، اب ان حالات پر ایک لفظ نہیں بولتا ۔
عوام نے فضل الرحمن کی سیاسی چالوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاطر آدمی ہے، شطرنج کے کئی پتے رکھتا ہے۔ جہاں ویلیو بنے وہیں بولتا ہے، اشارہ ملے تو چابی کے کھلونے کی طرح چل پڑتا ہے۔
بنوں اور وزیرستان کے عوام کا یہ غصہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اب روایتی اور مفاد پرستی کی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے ، ذاتی جائیدادوں کی ہوس، سی پیک جیسے اہم منصوبوں کی بندر بانٹ اور عوامی محرومیوں پر خاموشی نے عوام کا پیمانہ صبر لبریز کر دیا ہے ، اگر اب بھی جنوبی اضلاع کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور عوامی جذبات سے کھیلنے کا سلسلہ بند نہ ہوا تو یہ عوامی غیظ و غضب اس نام نہاد رہنما کا سیاسی مستقبل ہمیشہ کے لیے تاریک کر دے گا۔