اسمگلر مافیا اور شرپسندوں پر گھیراؤ تنگ ہونے پر فضل الرحمان بوکھلا گیا ، کوہاٹ ڈویژن اور فاٹا انضمام پر افواہیں پھیلا کر قبائلیوں کو بھڑکانے کی مذموم سازش بے نقاب

اسمگلر مافیا اور شرپسندوں پر گھیراؤ تنگ ہونے پر فضل الرحمان بوکھلا گیا ، کوہاٹ ڈویژن اور فاٹا انضمام پر افواہیں پھیلا کر قبائلیوں کو بھڑکانے کی مذموم سازش بے نقاب

مولانا فضل الرحمان کا  پشاور میں جے یو آئی کے سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب ملکی سلامتی اور ریاستی بیانیے کے خلاف ایک اور منفی اور گمراہ کن طرزِ عمل کا واضح ثبوت بن کر سامنے آیا ہے۔

 سیاسی مبصرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے مولانا کے اس خطاب کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، مولانا کا یہ بیانیہ انتہائی تخریبی اور شرپسند عناصر کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔

دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کو ناکام بنانے کی مذموم کوشش
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے مدارس سے ماضی میں ہزاروں ایسے طالبان پیدا ہوئے جنہوں نے ملک کا امن و امان تباہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی سیکیورٹی ادارے ان شرپسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف حتمی اور بڑے آپریشن کی تیاری کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمان بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر سیکیورٹی اداروں پر دباؤ بڑھانے کے لیے “مذاکرات” اور “سیاسی مکالمے” کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، اب جبکہ ریاست ایک فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے دہشت گردوں اور اسمگلر مافیا کا گھیراؤ تنگ کر رہی ہے

یہ بھی پڑھیں:پاک سرزمین کے غداروں اور خوراج کا نیٹ ورک تباہ کرنے کا فیصلہ کن مشن، سردی خیل منڈی میں سیکیورٹی فورسز کی لرزہ خیز کارروائی، موسیٰ آریانہ ساتھی سمیت ہلاک

 مولانا فضل الرحمان اس بڑی کارروائی کو روکنے اور دہشت گردوں کو بچانے کے لیے ڈائیلاگ کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ کوہاٹ ڈویژن اور دیگر اضلاع میں اسمگلنگ کے خلاف ممکنہ ایمرجنسی اقدامات پر مولانا کا سیخ پا ہونا ثابت کرتا ہے کہ وہ ریاستی رٹ کے بجائے غیر قانونی راستوں کے سرپرستوں کے ہمدرد ہیں۔

سیکیورٹی اداروں پر کیچڑ اچھالنے والوں سے مذاکرات کا ڈرامہ
مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی وکالت پر کڑا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ عوامی حلقوں کا سوال ہے کہ ایک ایسے کرپٹ ٹولے اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کے ساتھ کون اور کیوں مل کر بیٹھے؟ نو مئی کے ماسٹر مائنڈز اور ملکی دفاعی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات ملکی بقا کے ساتھ سمجھوتہ ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمان ذاتی سیاسی دکان چمکانے اور خود کو سیاسی منظرنامے پر زندہ رکھنے کے لیے ان عناصر کی وکالت کر رہے ہیں جو دن رات پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔

فاٹا انضمام اور ملکی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا
اعلیٰ حکومتی سطح کا نام لے کر فاٹا انضمام کے خلاف افواہیں پھیلانا اور قبائلی اضلاع کے معدنی وسائل پر شکوک و شبہات پیدا کرنا مولانا کی روایتی منفی سیاست کا حصہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انضمام کے خاتمے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں، بلکہ مولانا فضل الرحمان قبائلی عوام کو ریاست کے خلاف بھڑکانے کے لیے جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

 وزیرِ دفاع خواجہ آصف جیسے سینئر سیاستدانوں پر طنز اور ذاتی حملے کر کے مولانا نے خود ثابت کر دیا کہ سیاسی اخلاقیات اور مکالمے کا درس دینے والے جے یو آئی کے سربراہ خود کس قدر منفی اور سطحی ذہنیت کے مالک ہیں۔ ان کا یہ خطاب ملکی اداروں کو کمزور کرنے اور دہشت گردی کے خلاف جاری قومی عزم کو سبوتاژ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles