آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او اور ان کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر سنگین دھمکیاں دینے کا معاملہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) تک پہنچ گیا۔ آزاد ڈیجیٹل کی جانب سے ضیاء الرحمن، راشد سومرو، ناصر سومرو اور مفتی اویس کے خلاف باضابطہ شکایت جمع کرا دی گئی ہے۔
آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او کی جانب سے ادارے کے ڈیسک انچارج عدیل عمر نے این سی سی آئی اے سے رجوع کرتے ہوئے تحفظ فراہم کرنے اور مبینہ دھمکیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کی ہے۔
شکایت میں ضیاء الرحمن اور دیگر افراد پر براہِ راست دھمکیاں دینے اور ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کمپلینٹ کے مطابق راشد سومرو کی جانب سے آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مختلف فیس بک اکاؤنٹس کے ذریعے دھمکی آمیز پوسٹس اور کمنٹس جاری کیے گئے۔ شکایت میں چار فیس بک پروفائلز کو مبینہ دھمکی آمیز سرگرمیوں سے منسلک کیا گیا ہے۔
کمپلینٹ کے مطابق آزاد ڈیجیٹل کے مختلف پروگرامز نشر ہونے کے بعد ادارے کے سی ای او اور ان کے اہلِ خانہ کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شکایت کے ساتھ مبینہ دھمکی آمیز پوسٹس اور تبصروں کے اسکرین شاٹس اور ویب لنکس بھی منسلک کیے گئے ہیں۔
آزاد ڈیجیٹل نے این سی سی آئی اے سے درخواست کی ہے کہ دھمکیوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے مالکان اور انہیں چلانے والے افراد کی شناخت کی جائے۔
شکایت میں تمام ذمہ داران کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ آزاد ڈیجیٹل نے معاملے کو انتہائی سنگین اور ہنگامی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے فوری تحقیقات کی درخواست کی ہے۔
درخواست میں سی ای او اور ان کے اہلِ خانہ کے تحفظ کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ آزاد ڈیجیٹل کا مؤقف ہے کہ صحافتی سرگرمیوں اور پروگرامز کے بعد سامنے آنے والی مبینہ دھمکیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جانا چاہیے۔
اب معاملہ این سی سی آئی اے کے سامنے ہے اور شکایت میں نامزد افراد، مبینہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور دھمکی آمیز مواد کی تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لانے کی درخواست کی گئی ہے۔
