خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے دور اقتدار کے دوران مالی بے قاعدگیوں کا ایک اور بڑا معاملہ سامنے آگیا۔ مالی سال 2024-25 کے دوران محکمہ لوکل گورنمنٹ میں 17 ارب 78 کروڑ روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ بے قاعدگیاں غیر قانونی اور غیر ضروری بھرتیوں، من پسند افراد کو ٹھیکے دینے، بینک کے ذریعے یا کراس چیک کی بجائے ٹھیکیداروں کو نقد رقوم کی تقسیم، غیر تصدیق شدہ بقایا جات اور مراعات کی ادائیگی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر کے رقوم میں تضاد، عوامی کھاتے کے واجب الادا رقوم کو برقرار رکھنا، خریداری، کمرشل بینک کے ساتھ اکاؤنٹ مینجمنٹ، سروسز ڈیلیوری اور غفلت سمیت دیگر وجوہات کی وجہ سے سامنے آئی ہیں۔
سال 2024-25 کے دوران صوبے کے 36 اضلاع کے ڈسٹرکٹ کمپٹرولر آف اکاؤنٹس (ڈی سی اے) اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس (ڈی اے او) نے غیر قانونی طور پر ڈرائینگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر (ڈی ڈی او) کو بینک کے ذریعے رقوم کی منتقلی یا کراس چیک کی بجائے 92 کروڑ 33 لاکھ روپے کی نقد ادائیگیاں کی گئیں۔
اسی طرح مختلف محکموں کے ملازمین کو 15 کروڑ 43 لاکھ روپے بقایاجات اور مراعات کی مد میں دیے گئے جبکہ مذکورہ رقم کو آڈٹ کے لیے ظاہر نہیں کیا گیا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق 36 اضلاع میں سے 24 اضلاع کے ڈسٹرکٹ کمپٹرولر آف اکاؤنٹس اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سسٹم میں 9 ارب 27 کروڑ 10 لاکھ روپے کا فرق سامنے آیا ہے۔ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر کے ریکارڈ کے مطابق ان کے پاس 22 ارب 52 کروڑ 44 لاکھ روپے موجود تھے تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سسٹم میں صرف 13 ارب 25 کروڑ 33 لاکھ روپے موجود تھے۔
غیر قانونی طور پر غیر ضروری بھرتیاں کرکے خزانے کو 55 کروڑ 95 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ مختلف خریداریوں کے لیے قواعد و ضوابط اور خیبرپختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی رولز کو پامال کرکے خزانے کو 45 کروڑ 35 لاکھ روپے کا ٹیکہ لگایا گیا۔
کمرشل بینک کے ساتھ اکاؤنٹ کی مد میں 85 کروڑ 88 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ سروسز ڈیلیوری کی آڈٹ کے دوران 66 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئیں جبکہ غفلت، کوتاہی، انتظامی ناکامی سمیت دیگر کی وجہ سے 3 ارب 60 کروڑ 15 لاکھ روپے کی مالی بے قاعدگیاں رپورٹ ہوئیں۔
ایبٹ آباد میں غیر فعال سرکاری تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن اور ان کے لیے کی جانے والی خریداری پر 52 کروڑ 93 لاکھ روپے کی خطیر رقم خرچ کرکے ظاہر کی گئی۔ آڈٹ رپورٹ میں اعتراض کیا گیا ہے کہ جب اسکول ہی غیر فعال ہے جہاں پر اساتذہ ہی نہیں تو پھر ان تعلیمی اداروں پر اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
غیر ضروری اخراجات کی مد میں 4 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق ضلع باجوڑ میں جامعہ مساجد کے 25 پیش امام جو سرکاری اسکول میں اساتذہ بھی ہیں، انہیں وظیفے کی مد میں 33 لاکھ روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔
آڈٹ رپورٹ میں اعتراض لگایا گیا ہے کہ ایک سرکاری اسکول کے استاد کو وظیفے کی مد میں علیحدہ رقم دی گئی ہے جو خلاف قانون ہے۔ باجوڑ میں غیر قانونی اور غیر ضروری طور پر ہیومن ریسورس، سروسز ڈیلیوری، غفلت اور دیگر کوتاہیوں کے نتیجے میں خزانے کو 28 کروڑ 99 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔