امریکا کے مڈٹرم انتخابات میں مسلم امیدواروں کی نمایاں شرکت توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ مختلف ریاستوں سے 11 مسلمان امیدوار انتخابی میدان میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
ان امیدواروں میں ڈیموکریٹک، ریپبلکن اور آزاد سیاسی وابستگی رکھنے والے رہنما شامل ہیں۔ ایوان نمائندگان کے ساتھ سینیٹ کی نشست پر بھی مسلم امیدوار انتخابی مقابلے میں موجود ہیں۔
یہ انتخابی سرگرمی امریکی سیاست میں مسلم کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی سیاسی شرکت اور نمائندگی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔
امریکی مڈٹرم انتخابات میں مسلم امیدواروں کی تعداد کے حوالے سے ایک اہم وضاحت بھی سامنے آئی ہے۔ مسلم نیٹ ورک ٹی وی کی 20 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق کانگریس کی نشستوں کے لیے 11 مسلمان امیدوار ہیں جبکہ تمام سطحوں پر امیدواروں کی تعداد کم از کم 51 ہے۔
مسلم امیدواروں کی انتخابی دوڑ
امریکی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی نشستوں کے لیے کئی معروف مسلم سیاست دان بھی میدان میں ہیں۔ ان میں انڈیانا سے آندرے کارسن، منی سوٹا سے الہان عمر اور مشی گن سے رشیدہ طلیب شامل ہیں۔
کیلیفورنیا سے عائشہ وہاب اور لطیفہ سائمن بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں میں شامل ہیں۔ ورجینیا سے احسن مجیب ملک اور الہہ احرار آزاد امیدواروں کی حیثیت سے انتخابی مقابلے میں موجود ہیں۔
اس انتخابی دوڑ میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار شامل ہیں۔ مسلم امیدواروں کی اکثریت ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ ہے۔ ریپبلکن اور آزاد امیدوار بھی انتخابی عمل کا حصہ ہیں۔
پہلا مسلمان سینیٹر بننے کا امکان
مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدوار عبدالسید کی سینیٹ کی نشست کے لیے انتخابی مہم خصوصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ وہ کامیاب ہوئے تو امریکی تاریخ میں پہلے مسلمان سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کر سکتے ہیں۔