امریکی ریاست نیویارک میں انتخابی عمل کے دوران ووٹنگ مشینوں کی خرابی نے انتظامی مشکلات پیدا کر دیں۔ ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی میں تقریباً اڑھائی لاکھ بیلٹ پیپرز اسکین نہ ہو سکے۔
مشینوں میں خرابی کے باعث ہزاروں ووٹرز کے ووٹوں کی بروقت پراسیسنگ متاثر ہوئی۔ انتخابی حکام کو پولنگ کے دوران متبادل انتظامات کرنا پڑے تاکہ شہری اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ووٹنگ مشینوں میں پروگرامنگ کی خرابی سامنے آئی۔ اس کے نتیجے میں کاؤنٹی کی 40 سے زائد میونسپلٹیز کے 332 پولنگ اسٹیشن متاثر ہوئے۔
انتخابی عملے نے مشینوں کی خرابی دور ہونے تک ووٹرز کو ہنگامی بیلٹ پیپرز استعمال کرنے کی ہدایت کی۔ اس انتظام کا مقصد پولنگ کے عمل کو جاری رکھنا اور ووٹرز کو ووٹ ڈالنے سے محروم ہونے سے بچانا تھا۔
بیلٹ پیپرز کی گنتی کیسے ہوگی؟
حکام کے مطابق ہنگامی بیلٹ پیپرز کی گنتی پولنگ ختم ہونے کے بعد رات 9 بجے کی جائے گی۔ ان بیلٹ پیپرز کی گنتی ہاتھ سے کرنے کے بجائے مشینوں کے ذریعے اسکیننگ سے مکمل کی جائے گی۔
اس طریقہ کار کے تحت ووٹرز کے ڈالے گئے ووٹ محفوظ رہیں گے اور مشینوں کی خرابی دور ہونے کے بعد ان کی اسکیننگ ممکن ہو سکے گی۔
انتخابی انتظامات پر سوالات
ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی میں ایک ہی وقت میں 332 پولنگ اسٹیشنوں کا متاثر ہونا انتخابی انتظامات کے لیے بڑا چیلنج بن گیا۔ پروگرامنگ کی خرابی نے انتخابی ٹیکنالوجی پر انحصار اور ہنگامی تیاریوں کی اہمیت بھی اجاگر کر دی۔
انتخابی عمل میں مشینوں کی خرابی کے باوجود حکام نے متبادل بیلٹ پیپرز کے ذریعے ووٹنگ جاری رکھنے کا انتظام کیا۔ اب توجہ مشینوں کی خرابی دور کرنے اور تمام بیلٹ پیپرز کی درست اسکیننگ مکمل کرنے پر مرکوز ہے۔