سرکاری تنخواہ بھی، پیش امام وظائف بھی، باجوڑ آڈٹ رپورٹ نے فضل الرحمان کی جماعت سے وابسطہ 25 افراد کا بڑا مالی اسکینڈل بے نقاب کردیا

سرکاری تنخواہ بھی، پیش امام وظائف بھی، باجوڑ آڈٹ رپورٹ نے فضل الرحمان کی جماعت سے وابسطہ 25 افراد کا بڑا مالی اسکینڈل بے نقاب کردیا

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی آڈٹ رپورٹ نے جمعیت علمائے اسلام سے وابسطہ جامع مساجد کے 25 پیش اماموں کا پردہ چاک کیا ہے جو محکمہ تعلیم میں سرکاری اساتذہ کی تنخواہوں کے ساتھ ڈپٹی کمشنر اکاؤنٹ سے غیر قانونی طور پر لاکھوں روپے کا وظیفہ بھی وصول کر رہے تھے۔

مالی سال25-2024 کے لیے ڈپٹی کمشنر باجوڑ کے کھاتوں کے آڈٹ کے دوران یہ سنگین بے ضابطگی سامنے آئی ہے کہ ’علما  اور اقلیتی رہنماؤں کے لیے وظائف‘ کے مختص بجٹ ہیڈ A03959 سے 25 پیش اماموں کو مجموعی طور پر 33 لاکھ 30 ہزار روپے (3.330 ملین روپے) کی رقم ادا کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:حقائق بے نقاب ہونے پر فضل الرحمان کے چہیتوں کی دہشت گردی ، راشد سومرو، ضیاء الرحمان اور ناصر سومرو کی آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او کو جان سے مارنے کی ہولناک دھمکیاں

آڈٹ پیرا نمبر 3.1.1 کی رپورٹ کے مطابق یہ تمام 25 آئمہ مساجد باجوڑ کے محکمہ تعلیم میں پہلے سے بطور سرکاری اساتذہ ملازمت کر رہے تھے اور ماہانہ باقاعدہ تنخواہ حاصل کر رہے تھے۔

موجودہ سرکاری قواعد و ضوابط کے تحت کسی بھی سرکاری ملازم کو علماء یا اقلیتی رہنماؤں کے لیے مختص خصوصی وظیفے کا حقدار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، جس کی وجہ سے یہ تمام ادائیگیاں مکمل طور پر غیر قانونی اور خزانے کو نقصان پہنچانے کے زمرے میں آتی ہیں۔

سیاسی اثر و رسوخ اور سرکاری محکموں کا دہرا معیار

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے بیشتر آئمہ مساجد و اساتذہ کا تعلق مقامی سطح پر سیاسی و مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے بتایا جاتا ہے۔

ایک طرف جہاں یہ افراد سرکاری اسکولوں میں بطور ٹیچر بھرتی ہو کر سرکاری مراعات حاصل کر رہے ہیں، تو دوسری جانب مذہبی شناخت اور سیاسی رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے اکاؤنٹس سے اضافی غیر قانونی وظائف بھی اپنے نام جاری کروا رہے تھے۔

آڈٹ رپورٹ نے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے ڈبل چیکنگ میکانزم کی ناکامی کی وجہ سے ایک ہی شخص 2 جگہوں سے سرکاری رقم اینٹھنے میں کامیاب رہا۔

ضم شدہ اضلاع میں انتظامی کمزوریاں اور مالی کنٹرول

ضلع باجوڑ اور دیگر سابقہ فاٹا کے اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد سے مختلف سرکاری محکموں میں شفافیت اور مالی ضبط و نظم قائم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

تاہم ماضی سے چلے آ رہے خصوصی فنڈز، جن میں علماء اور اقلیتی رہنماؤں کے لیے وظائف شامل ہیں، اکثر بغیر کسی مکمل ڈیٹا بیس اور سکروٹنی کے تقسیم کیے جاتے رہے ہیں۔

پیش اماموں اور سرکاری اساتذہ کا بیک وقت ان فنڈز سے فائدہ اٹھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی سطح پر شفافیت کے قوانین پر عمل درآمد کس قدر ناقص رہا ہے اور کس طرح مقامی سیاسی دھڑے بندیوں کا فائدہ اٹھا کر عوامی ٹیکسوں کے پیسے کو نقصان پہنچایا گیا۔

شفافیت کا فقدان اور نظامی اصلاحات کی اشد ضرورت

اس تمام مالی بے ضابطگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مقامی انتظامیہ اور تعلیمی محکموں کے درمیان آپسی معلومات کے تبادلے کی شدید کمی ہے۔

مزید پڑھیں:کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا، زکوٰۃ خور، منافق اور دین فروخت کرنیوالے فضل الرحمان ریاست کو تڑیاں نہ لگائو، فیاض الحسن چوہان

جب سرکاری ملازمت میں موجود آئمہ کرام اپنی تدریسی خدمات کی رقم وصول کر رہے ہوں تو انہیں اقلیتی یا علما وظائف کی مد میں اضافی فنڈز جاری کرنا نہ صرف اخلاقی اور قانونی اصولوں کے منافی ہے بلکہ یہ آئین کے طے شدہ شفافیت کے اصولوں کو بھی پامال کرتا ہے۔

ریاستی وسائل پر اس نوعیت کا ناجائز بوجھ محض ایک ضلعی انتظامیہ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے انتظامی فریم ورک پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں غیر قانونی طور پر ادا کی گئی 33 لاکھ 30 ہزار روپے کی رقم کی فوری ریکوری کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تدارک کیا جا سکے اور ذمہ داران کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Related Articles