بھارت سے آنے والی آلودہ ہواؤں نے لاہور کی فضا متاثر کر دی، ہوا کا رخ بدلنے سے بہتری شروع، پنجاب حکومت کا ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر کریک ڈاؤن تیز

بھارت سے آنے والی آلودہ ہواؤں نے لاہور کی فضا متاثر کر دی، ہوا کا رخ بدلنے سے بہتری شروع، پنجاب حکومت کا ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر کریک ڈاؤن تیز

لاہور میں بھارت سے آنے والی آلودہ ہواؤں کے باعث ایئر کوالٹی انڈیکس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم رات 9 بجے کے بعد ہوا کا رخ تبدیل ہونے سے فضائی آلودگی میں کمی کا رجحان شروع ہوگیا۔

پنجاب حکومت نے اسموگ کے تدارک کے لیے صنعتی یونٹس، فصلوں کی باقیات جلانے اور آلودگی کے دیگر ذرائع کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے گزشتہ 24گھنٹوں میں 259 صنعتی یونٹس کی انسپکشن، 11 یونٹس سیل اور خلاف ورزیوں پر 18 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا کہ لاہور کے ہائی کیو ایریاز میں خصوصی اسموگ گنز کے ذریعے آپریشن جاری ہے، جبکہ فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ بھی مسلسل کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال، پاک اقوام متحدہ بین الاقوامی کانفرنس میں جدید تحقیق پیش

دوسری جانب فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 289 واقعات کے شواہد ملے ہیں، جن پر 115 ایف آئی آرز اور استغاثے درج کیے گئے، جبکہ متعلقہ افراد پر 29 لاکھ 30 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

لاہور کی فضا میں بہتری کا رجحان، ہواؤں کا رخ تبدیل

لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال پر سرکاری سطح پر جاری تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے آنے والی آلودہ ہواؤں نے شہر کے ایئر کوالٹی انڈیکس کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں آلودگی کی سطح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تاہم رات 9 بجے کے بعد ہوا کا رخ تبدیل ہونے سے شہر کی فضا میں بہتری کا رجحان شروع ہوگیا۔ ہواؤں کی سمت میں تبدیلی فضائی آلودگی کی شدت اور اس کے پھیلاؤ پر اثرانداز ہونے والے اہم موسمی عوامل میں شمار ہوتی ہے۔

ماحولیاتی اعتبار سے ہواؤں کی رفتار اور سمت میں تبدیلی آلودہ ذرات کے پھیلاؤ، ان کے ایک مقام پر جمع ہونے اور فضا میں ان کی موجودگی کی سطح کو متاثر کرتی ہے۔

 یہی وجہ ہے کہ لاہور جیسے گنجان آباد اور صنعتی سرگرمیوں والے شہر میں موسمی حالات فضائی معیار کے اتار چڑھاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ہائی کیو ایریاز میں اسموگ گنز اور پانی کے چھڑکاؤ کا آپریشن

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق لاہور کے ہائی کیو ایریاز میں خصوصی اسموگ گنز کے ذریعے آپریشن مسلسل جاری ہے۔ ان علاقوں میں پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا جا رہا ہے تاکہ فضا میں موجود گردوغبار اور آلودہ ذرات کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔

اسموگ گنز اور پانی کے چھڑکاؤ کو فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے فوری نوعیت کے اقدامات میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم ان اقدامات کے ساتھ آلودگی پیدا کرنے والے بنیادی ذرائع کی روک تھام بھی ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں:پنجاب بھر کے سکولوں کی مانیٹرنگ کا نیا نظام متعارف

صنعتی اخراج، گاڑیوں کا دھواں، تعمیراتی سرگرمیوں سے اٹھنے والی گردوغبار اور فصلوں کی باقیات جلانے جیسے عوامل فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے اسموگ کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے نگرانی، قانون پر عمل درآمد اور آلودگی کے ذرائع پر قابو پانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

259 صنعتی یونٹس کی انسپکشن، 11 سیل

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ پنجاب بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے 259 صنعتی یونٹس کی انسپکشن کی گئی۔

معائنے کے دوران خلاف ورزیاں سامنے آنے پر 11 صنعتی یونٹس کو سیل کردیا گیا، جبکہ ذمہ دار یونٹس پر مجموعی طور پر 18 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

یہ کارروائیاں صنعتی شعبے میں ماحولیاتی ضوابط کی پابندی یقینی بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہیں۔ صنعتی یونٹس سے خارج ہونے والا دھواں اور دیگر آلودہ مادے شہری علاقوں کی فضائی کیفیت کو متاثر کرسکتے ہیں، اس لیے ان کی باقاعدہ نگرانی اور خلاف ورزیوں پر کارروائی اسموگ کنٹرول پالیسی کا اہم جزو ہے۔

فصلوں کی باقیات جلانے کے 289 واقعات، 115 مقدمات درج

پنجاب میں فضائی آلودگی کی ایک بڑی وجہ فصلوں کی باقیات جلانے کا عمل بھی ہے، جس کی روک تھام کے لیے صوبائی حکومت نے کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

سینئر صوبائی وزیر کے مطابق فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 289 واقعات کے شواہد حاصل ہوئے۔ ان واقعات پر 115 ایف آئی آرز اور استغاثے درج کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر 29 لاکھ 30 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

ان اقدامات کا مقصد کسانوں اور متعلقہ افراد کو فصلوں کی باقیات جلانے سے روکنا اور زرعی زمینوں سے اٹھنے والے دھوئیں کے باعث فضائی آلودگی میں اضافے کو محدود کرنا ہے۔

فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں نہ صرف قریبی دیہی علاقوں بلکہ ہواؤں کے ذریعے شہری آبادیوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اس سے فضا میں باریک آلودہ ذرات کی مقدار بڑھنے اور اسموگ کی شدت میں اضافے کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

گزشتہ 4 روز میں 80 واقعات، 42 مقدمات

مریم اورنگزیب کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ 4 روز کے دوران فصلوں کی باقیات جلانے کے 80 واقعات رپورٹ ہوئے۔

ان واقعات پر قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے 42 مقدمات اور استغاثے درج کیے گئے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں پر 5 لاکھ 85 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ فصلوں کی باقیات جلانے کا مسئلہ بدستور موجود ہے اور اس کی روک تھام کے لیے مسلسل نگرانی اور مؤثر قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔

پنجاب میں چاول کی کٹائی 74.42 فیصد مکمل

اسموگ کی روک تھام کے لیے اقدامات کے ساتھ پنجاب میں زرعی سرگرمیوں کی صورتحال سے متعلق بھی اہم اعدادوشمار سامنے آئے ہیں۔

سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا کہ صوبے بھر میں چاول کی فصل کی کٹائی کا عمل 74.42 فیصد مکمل ہوچکا ہے، جبکہ 47 لاکھ 12 ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے پر چاول کی فصل کی برداشت مکمل کرلی گئی ہے۔

زرعی شعبے میں فصلوں کی باقیات کو جلانے کے بجائے متبادل طریقوں سے تلف کرنے کی اہمیت بھی اسی مرحلے پر بڑھ جاتی ہے، کیونکہ فصل کی کٹائی کے بعد باقی ماندہ ڈنٹھل اور دیگر مواد کو آگ لگانے سے بڑے پیمانے پر دھواں پیدا ہوتا ہے۔

سپر سیڈر سے 2 لاکھ 24 ہزار 866 ایکڑ پر گندم کی کاشت مکمل

مریم اورنگزیب کے مطابق پنجاب میں جدید زرعی مشینری کے استعمال کے ذریعے دھان کی کٹائی کے بعد گندم کی کاشت کا عمل بھی جاری ہے۔ اب تک سپر سیڈر کے ذریعے 2 لاکھ 24 ہزار 866 ایکڑ رقبے پر گندم کی کاشت مکمل کی جاچکی ہے۔

سپر سیڈر ایسی جدید زرعی مشینری ہے جو دھان کی کٹائی کے بعد زمین میں موجود فصل کی باقیات کو جلائے بغیر گندم کی براہ راست کاشت میں مدد دیتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے فصلوں کی باقیات جلانے کی ضرورت کم کرنے اور زرعی زمین کی تیاری کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اسموگ کنٹرول کے لیے مستقل اقدامات ناگزیر

پنجاب میں سامنے آنے والے اعدادوشمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسموگ کا مسئلہ محض موسمی تبدیلی یا ہواؤں کی سمت تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے صنعتی اخراج، زرعی طریقہ کار، ٹریفک اور شہری آلودگی جیسے متعدد عوامل کارفرما ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ پھر غیر یقینی، حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد ہوگا

لاہور میں رات 9 بجے کے بعد ہوا کا رخ تبدیل ہونے سے فضائی آلودگی میں بہتری کا رجحان ضرور شروع ہوا، تاہم صرف ہواؤں کی تبدیلی کو مسئلے کا مستقل حل قرار نہیں دیا جاسکتا۔

فضائی معیار میں پائیدار بہتری کے لیے صنعتی یونٹس کی مسلسل نگرانی، فصلوں کی باقیات جلانے پر مؤثر پابندی، جدید زرعی مشینری کے فروغ اور شہری آلودگی کے ذرائع پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

حکومتی کارروائیوں کی افادیت کا اصل پیمانہ صرف انسپکشن، جرمانوں اور یونٹس کی بندش تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کے نتیجے میں فضائی آلودگی کی سطح میں ہونے والی حقیقی اور مستقل کمی بھی اہم ہے۔

Related Articles