ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال، پاک اقوام متحدہ بین الاقوامی کانفرنس میں جدید تحقیق پیش

ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال، پاک اقوام متحدہ بین الاقوامی کانفرنس میں جدید تحقیق پیش

سپارکو کے زیرِ میزبانی پاک اقوام متحدہ بین الاقوامی کانفرنس کے چوتھے روز ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی اور ابتدائی انتباہی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی، جیو اے آئی اور جدید سائنسی طریقوں کے استعمال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

’’ابتدائی انتباہی نظام، ماحولیاتی اقدامات اور آفات کے خطرات کے جائزے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی سے استفادہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کے چوتھے روز کا موضوع ’’جدت طرازی، نوجوان اور عملی تجربات‘‘ تھا، جس میں ملکی و بین الاقوامی ماہرین، محققین، ماہرینِ تعلیم اور نوجوان پیشہ ور افراد نے شرکت کی۔

کانفرنس کے دوران دو تکنیکی سیشنز منعقد ہوئے۔ پہلے سیشن ’’جدید ٹولز اور جیو اے آئی‘‘ میں اقوام متحدہ کے عالمی ابتدائی انتباہی اقدام میں یو این اسپائیڈر کے کردار، آفات کے خطرات میں کمی کے لیے جیو اے آئی کے ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال اور سماجی و معاشی ترقی میں جغرافیائی ٹیکنالوجیز کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

اس موقع پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے متعدد قدرتی آفات کے خطرات کا جائزہ لینے، ماحولیاتی تبدیلیوں کے انسانی صحت پر اثرات، مؤثر ابتدائی انتباہی نظام اور سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے زلزلوں کے ممکنہ پیش خیموں کی تحقیق سے متعلق مقالے پیش کیے گئے۔ عمارتوں کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے جدید طریقوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

دوسرا تکنیکی سیشن ’’ نوجوان محققین کی آواز: ماحولیاتی تحقیق اور عملی اقدامات‘‘  نوجوان محققین اور پیشہ ور افراد کی تحقیقی کاوشوں کے لیے مخصوص تھا، جس میں ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی مختلف تحقیقی منصوبے پیش کیے گئے۔

سیشن میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کی نشاندہی، گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب کے خطرات، جیو اے آئی کے استعمال اور سیلاب کی پیش گوئی سے متعلق تحقیق پیش کی گئی۔

اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں آبی بہاؤ کے تخمینے، شہری زمین کے دھنساؤ کی نگرانی، موسمیاتی خطرات سے محفوظ آبادیوں کی بحالی اور ابتدائی انتباہی نظام کے لیے جدید سینسر ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

نوجوان محققین نے لائڈار (LiDAR) اور مشین لرننگ کے ذریعے جنگلاتی و نباتاتی وسائل کے تخمینے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے متعلق تحقیقی کام بھی پیش کیا۔ اس سیشن میں ملکی جامعات اور نوجوان محققین کی ٹیکنالوجی پر مبنی کاوشوں کو نمایاں کیا گیا۔

کانفرنس کے دوران  ’’پیرس معاہدۂ موسمیاتی تبدیلی کے اہداف کے حصول میں خلائی ٹیکنالوجی کا کردار‘‘ کے موضوع پر خصوصی پینل مباحثہ بھی منعقد ہوا، جس میں پاکستان اور چین کے ماہرین نے شرکت کی۔

مباحثے میں سیٹلائٹ مشاہدات، جغرافیائی معلومات اور خلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی، ماحولیاتی پالیسی سازی اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں معاونت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

پینل میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، سپارکو، چین کے ایرو اسپیس انفارمیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، گلوبل کلائمیٹ چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے نمائندگان شریک ہوئے، جبکہ مباحثے کی نظامت سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی نمائندہ نے کی۔

کانفرنس کے چوتھے روز شرکاء نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا تکنیکی دورہ بھی کیا، جہاں انہیں ادارے کے انتظامی اور عملی طریقہ کار، آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں اور قدرتی آفات سے قبل تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

دورے کے دوران شرکاء کو قدرتی آفات کے دوران ردعمل، خطرات کے انتظام اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔

Related Articles