امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج کو بنیاد بنا کر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پاک امریکا تعلقات سے متعلق نیا پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے، تاہم واشنگٹن کے اسٹریٹجک ذرائع کے مطابق پاک امریکا تعلقات شخصی پسند و ناپسند کے بجائے باہمی قومی مفادات پر قائم ہیں۔
امریکی کانگریس کے نتائج سامنے آتے ہی پاکستان تحریک انصاف کے بیرونِ ملک مقیم سوشل میڈیا ونگز نے ایک بار پھر پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے گمراہ کن اور من گھڑت بیانیہ قائم کرنا شروع کر دیا ہے۔
تحریک انصاف اپنے حامیوں اور فالوورز کو یہ جھوٹی امید دلا رہی ہے کہ امریکی ایوان میں ڈیموکریٹس کی پوزیشن مضبوط ہونے سے ان کی سیاسی قیادت کو کوئی ریلیف مل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی انتخابات، پاکستان کیلئے بہتر کون؟ ٹرمپ یا کمیلا ہیرس،مسلم ووٹ کسے حاصل ہوگاِ؟ اہم حقائق جانیئے
تاہم، بین الاقوامی سفارتی ماہرین اور حقائق پر مبنی تجزیوں نے اس نئے پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کسی ایک فرد یا جماعت کی خواہشات کے تحت نہیں بلکہ سات دہائیوں سے چلی آنے والی جیو پولیٹیکل حقیقتوں پر استوار ہے۔
وائٹ ہاؤس اور اسلام آباد کا اسٹریٹجک محور
حقیقت یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت، بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے درمیان تعلقات کا موجودہ ڈھانچہ ٹھوس اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر قائم ہے۔
امریکی کانگریس کے اندرونی سیاسی توازن کی تبدیلی سے اس تعلق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ واشنگٹن کی اسٹیبلشمنٹ اور خطے کے دیگر بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز اس بات کو بخوبی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کا موجودہ ریاستی سیٹ اپ خطے کے معاشی و عسکری چیلنجز کا بہترین اور مستحکم حل فراہم کر رہا ہے۔
ناکام لانگ مارچ اور پی ٹی آئی کی بار بار بدلتی منطق
پی ٹی آئی کی جانب سے گھڑا جانے والا یہ نیا پروپیگنڈا دراصل ان کی مسلسل سیاسی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک اور کوشش ہے۔
خیبر پختونخوا میں حکومت کی انتظامی ناکامیاں، ناکام لانگ مارچ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے (ڈیل) میں ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کے بیرونِ ملک مقیم حمایتی اب سیاسی طور پر تنہا ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:امریکی انتخابات، ڈونلڈ ٹرمپ یا کاملاہیرس،کس کا پلڑا بھاری؟7 کروڑ سے زائد ووٹ کاسٹ
ٹرمپ کے پچھلے دور اور اقتدار میں واپسی سے قبل بھی پی ٹی آئی سوشل میڈیا نے بانی کی رہائی اور پارٹی کی بحالی کے بارے میں اسی طرح کے جھوٹے خواب بیچے تھے اور جب وہ حقیقت نہ بن سکے تو یہی ونگز ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کرنے لگے۔
اب عین وہی پرانا نمونہ نئے رنگ میں دہرایا جا رہا ہے تاکہ چند ڈالرز کمانے اور فالوورز کو مصروف رکھنے کا سامان تیار کیا جا سکے۔
خطے کی جیو پولیٹکس اور پاک امریکا مشترکہ ایجنڈا


