آپریشن ردالفتنہ۔3، جہنم کے کتوں کا شکار جاری، سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی، 7 خوارج ہلاک، متعدد ٹھکانے تباہ، بھاری اسلحہ گولہ بارود برآمد

آپریشن ردالفتنہ۔3، جہنم کے کتوں کا شکار جاری، سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی، 7 خوارج ہلاک، متعدد ٹھکانے تباہ، بھاری اسلحہ گولہ بارود برآمد

سیکیورٹی فورسز نے ’آپریشن ردالفتنہ 3‘ کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 7 خوارج کو ہلاک اور 5 کو زخمی کر دیا ہے۔

علاقے میں دہشت گرد عناصر کی کی موجودگی اور ممکنہ تخریبی سرگرمیوں کی مصدقہ اطلاعات پر سیکیورٹی فورسز نے انتہائی حکمتِ عملی کے ساتھ ایک جامع اور ٹارگٹڈ آپریشن کی منصوبہ بندی کی۔ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں خاران کے علاقہ لجے اور کچی کے علاقہ سنی میں سیکیورٹی فورسز کی موثر کاروائیاں 17 دہشتگرد جہنم واصل

فورسز کی کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 7 خوارج ہلاک ہو گئے جبکہ 5 شدید زخمی ہوئے۔ فورسز کی بھرپور جوابی فائرنگ کے نتیجے میں خوارج کے متعدد خفیہ ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

ٹھکانوں کی تباہی، بھاری اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدگی

سیکیورٹی آپریشن مکمل ہونے کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے زیرِ استعمال قائم کئی اہم ٹھکانوں اور غاروں کو تباہ کر دیا گیا جہاں سے وہ اپنی تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔

سیکیورٹی فورسز نے ان تباہ شدہ ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولا بارود، دھماکہ خیز مواد اور مواصلاتی آلات بھی قبضے میں لے لیے۔ اس پیش قدمی سے سرحد پار اور مقامی سطح پر متحرک تخریب کار نیٹ ورک کو ایک شدید دھچکا پہنچا ہے۔

’آپریشن ردالفتنہ 3‘ کی ضرورت اور اہداف

ریاستِ پاکستان اور اس کے سیکیورٹی ادارے طویل عرصے سے ملک میں پائیدار امن کی بحالی اور بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔

 فتنہ الہندوستان اور اس سے جڑے خوارج ماضی میں بھی معصوم شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہم تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ، 7 خوارج ہلاک

’آپریشن ردالفتنہ 3‘ اسی قومی عزم کا تسلسل ہے جس کا بنیادی مقصد دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا، ان کی مواصلاتی لنکس کو توڑنا اور سرحد پار سے ملنے والی معاونت کو بے اثر بنانا ہے۔

اس آپریشن کا آغاز انہی انٹیلی جنس معلومات پر مبنی کلیئرنس کارروائیوں کا حصہ ہے تاکہ دہشت گردی کا مکمل قلع قمع کیا جا سکے۔

انسدادِ دہشتگردی کی حکمت عملی کا تحریکی نقطہ نظر

اگر اس کامیاب کارروائی کے دفاعی اور آپریشنل پہلو کا جائزہ لیا جائے تو انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی فوری اور درست نشانہ پر مبنی کارروائیاں اب فورسز کی جنگی حکمتِ عملی کا سب سے مؤثر ہتھیار بن چکی ہیں۔

ماضی کے مقابلے میں اب فورسز بڑی نقل وحرکت کے بجائے پن پوائنٹ سیکیورٹی انفارمیشن کا استعمال کر کے براہِ راست خوارج کے نیٹ ورک کو تباہ کر رہی ہیں۔

فتنہ الہندوستان جیسے نیٹ ورکس کو پہنچنے والا یہ بھاری جانی و مالی نقصان ان کی مجموعی آپریشنل صلاحیت کو مفلوج کر دے گا۔ سیکیورٹی فورسز کا ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل اور حتمی خاتمے تک پرعزم رہنا اس بات کا عکاس ہے کہ ریاست اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو مضبوط ہونے یا پنپنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔

Related Articles