’جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں‘، فیاض الحسن چوہان کا سی ای او آزاد ڈیجیٹل مصور عباسی کو ’جے یو آئی‘کی دھمکیوں پر ڈٹے رہنے اور حق پر قائم رہنے پر خراج تحسین

’جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں‘، فیاض الحسن چوہان کا سی ای او آزاد ڈیجیٹل مصور عباسی کو ’جے یو آئی‘کی دھمکیوں پر ڈٹے رہنے اور حق پر قائم رہنے پر خراج تحسین

سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او مصور عباسی کو جے یو آئی رہنماؤں سے ملنے والی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں اپنے مؤقف پر قائم رہنے پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔

سابق وزیر اطلاعات، ثقافت و جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان نے آزاد ڈیجیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مصور عباسی سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس ‘ پر اپنی پوسٹ میں فضل الرحمان کی ایما پر جمعیت علمائے اسلام کے عہدیداروں کی جانب سے مصور عباسی کو دی جانے والی دھمکیوں کا شدید نوٹس لیتے ہوئے فیاض چوہان نے کہا کہ ’جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں، اور جو بھونکتے ہیں وہ کاٹتے نہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیر اطلاعات کی آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر سے ملاقات، فضل الرحمن سے منسلک مدرسے کی انتظامیہ کی جانب سے کتے چھوڑ جانے کے واقعہ کی مذمت

انہوں نے آزاد ڈیجیٹل کے سربراہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ ’مصور عباسی صاحب، زندہ باد! ڈٹے رہیں اور مضبوطی کے ساتھ اپنے مؤقف پر قائم رہیں‘۔

منافقت، کرپشن اور موروثیت کے خلاف سخت الفاظ

سابق صوبائی وزیر نے اپنے بیان میں مذہبی و سیاسی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اسلام کے مقدس نام پر منافقت، کرپشن اور موروثیت کی سیاست کرنے والوں کو اپنے عملی کردار سے بتا دیں کہ دھمکیوں سے آزاد صحافت اور سچائی کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

فیاض الحسن چوہان نے شاعرانہ اور مزاحمتی انداز اختیار کرتے ہوئے زور دیا کہ ’وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے، جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لازم ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت پر دباؤ ڈالنے والے عناصر کو عوامی سطح پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آزاد ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر سیاسی و مذہبی شخصیات اور محکموں کی مالی بے ضابطگیوں، انتظامی امور اور سیاسی تحرک کے حوالے سے کڑی تنقید اور خبریں شیئر کی جا رہی ہیں۔

فضل الرحمان اور ان سے وابستہ نمائندوں کے قریبی حلقوں اور جے یو آئی کے عہدیداروں کی جانب سے آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کا واقعہ سامنے آنے پر صحافتی تنظیمی حلقوں اور سیاسی شخصیات کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل بھی آزاد صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

صحافتی آزادی، سیاسی آزادیِ اظہار

واضح رہے کہ پاکستان میں روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا کا منظرنامہ شدید سیاسی دباؤ اور ہراسانی کے واقعات سے گزر رہا ہے۔ جب کسی ڈیجیٹل ادارے کا صحافی یا سی ای او سیاسی یا مذہبی جماعتوں کی پالیسیوں اور مبینہ بے ضابطگیوں پر سوالات اٹھاتا ہے تو سیاسی تنظیمیں بسا اوقات قانونی راستے کے بجائے دھمکیوں کا سہارا لیتی ہیں۔

مزید پڑھیں:آزاد صحافت فضل الرحمٰن کو ہضم نہ ہوئی، مدرسے کے تجاوزات کی رپورٹنگ کرنے پر نمائندہ آزاد ڈیجیٹل پر کتے چھوڑ دیئے

فیاض الحسن چوہان کی جانب سے مصور عباسی کی علانیہ حمایت اور سخت الفاظ کا استعمال نہ صرف میڈیا مالکان اور اینکرز کو حوصلہ فراہم کرتا ہے بلکہ یہ سیاسی میدان میں جے یو آئی اور دیگر مخالف دھڑوں کے درمیان جاری شدید الفاظ کی جنگ کو بھی نئی جلا بخشتا ہے۔

ایسے ماحول میں صحافتی آزادی کے تحفظ اور میڈیا اداروں کے مالکان و ورکرز کی امان کے لیے ریاست کا آگے آنا اور قانونی توازن قائم رکھنا اشد ضروری ہے۔

Related Articles