فضل الرحمان کا سرکاری اراضی پر بڑا ڈاکہ: راشد سومرو کے زیرِ اثر منگھوپیر کے مدرسے کی 25 ایکڑ قیمتی زمین پر غیر قانونی قبضے کی ویڈیو منظرِ عام پر آ گئی
Home - آزاد انتخاب - فضل الرحمان کا سرکاری اراضی پر بڑا ڈاکہ: راشد سومرو کے زیرِ اثر منگھوپیر کے مدرسے کی 25 ایکڑ قیمتی زمین پر غیر قانونی قبضے کی ویڈیو منظرِ عام پر آ گئی
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما راشد سومرو سے منسوب منگھو پیر کے ایک مدرسے کے حوالے سے سرکاری زمین پر مبینہ قبضے، بھاری واجبات اور سنگین سکیورٹی خدشات کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ مدرسے کے احاطے اور اس کے اطراف میں پھیلے رقبے کی فضائی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے، جس میں ایک وسیع قطعہ زمین کو نمایاں کرکے دکھایا گیا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق مدرسے کے نام پر تقریباً 25 ایکڑ سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے کا الزام ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کی جانب سے نوٹسز جاری ہونے کے باوجود زمین خالی نہیں کی گئی۔ اس معاملے نے سرکاری اراضی کے تحفظ اور قانون پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
الزامات کے مطابق مذکورہ مدرسہ کے الیکٹرک کا 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کا نادہندہ بھی ہے۔ اتنے بڑے واجبات کی موجودگی میں بجلی کی فراہمی، وصولیوں اور متعلقہ اداروں کی کارروائی سے متعلق بھی وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔
اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو مدرسے میں افغان باشندوں اور کالعدم دہشت گرد تنظیم فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے مبینہ عناصر کو پناہ دیے جانے کے الزامات ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ اداروں کی باضابطہ تحقیقات سامنے آنا ضروری ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ محض سرکاری زمین یا بجلی کے واجبات تک محدود نہیں رہتا بلکہ قومی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریوں سے بھی جڑ جاتا ہے۔
منظر عام پر آنے والی فضائی ویڈیو میں منگھو پیر کے علاقے میں ایک بڑے احاطے، عمارتوں اور اردگرد کے رقبے کو سرخ نشان کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں دکھائے گئے زمینی حدود اور رقبے کے دعوؤں کی سرکاری ریکارڈ، محکمہ اراضی اور متعلقہ اداروں سے تصدیق ضروری ہے۔
اس معاملے پر مولانا فضل الرحمان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ مدرسے سے متعلق الزامات، سرکاری نوٹسز اور مبینہ واجبات پر ان کا مؤقف کیا ہے؟ کیا متعلقہ زمین کی قانونی حیثیت واضح کی جائے گی؟ اور اگر قبضہ ثابت ہوتا ہے تو سرکاری اراضی واگزار کرانے کے لیے کارروائی کب ہوگی؟
عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سندھ حکومت، ضلعی انتظامیہ، محکمہ اراضی، کے الیکٹرک اور قانون نافذ کرنے والے ادارے معاملے کی شفاف تحقیقات کریں، زمین کی ملکیت و الاٹمنٹ کا ریکارڈ سامنے لائیں، واجبات کی تفصیلات واضح کریں اور سکیورٹی سے متعلق الزامات کی بھی مکمل چھان بین کی جائے۔
نوٹ: مدرسے میں افغان باشندوں یا کالعدم تنظیم کے مبینہ عناصر کو پناہ دینے، سرکاری زمین پر قبضے اور واجبات سے متعلق الزامات کی حتمی حیثیت متعلقہ اداروں کی تحقیقات اور سرکاری ریکارڈ سے طے ہوگی۔