قلم کو دھمکیوں سے خاموش نہیں کیا جاسکتا ! آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او و اہلخانہ کو مبینہ قتل کی دھمکیاں، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی شدید مذمت
Home - آزاد انتخاب - قلم کو دھمکیوں سے خاموش نہیں کیا جاسکتا ! آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او و اہلخانہ کو مبینہ قتل کی دھمکیاں، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی شدید مذمت
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) نے ‘آزاد ڈیجیٹل’ کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) مصور عباسی اور ان کے اہل خانہ کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے، ہراساں کرنے اور سوشل میڈیا پر خوف و ہراس پھیلانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت، بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری اقدار پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
جاری پریس ریلیز میں یونین نے واضح کیا ہے کہ اختلافِ رائے یا صحافتی تنقید کا جواب دھمکیوں اور دباؤ سے دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اور آزادیٔ صحافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یونین کے صدر طارق عثمانی اور جنرل سیکریٹری رضوان غلزی نے اپنے بیانات میں کہا کہ تحقیقی رپورٹنگ یا سوال اٹھانے کی پاداش میں کسی صحافی یا اس کے بچوں اور اہل خانہ کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک، تشویشناک اور ناقابلِ برداشت اقدام ہے۔
انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں جمع کرائی گئی آزاد ڈیجیٹل کی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کردار کشی اور دھمکیوں میں ملوث سیاسی شخصیات اور کمپین اکاؤنٹس کے مبینہ کردار کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل آپریٹرز کی شناخت کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
نائب صدر محمد فیصل اعوان، جویریہ صدیق، انفارمیشن سیکریٹری مدثر الیاس کیانی، فنانس سیکریٹری یاسر نذر اور جوائنٹ سیکریٹریز خالد ملک و عبدالوحید جنجوعہ نے اپنے مشترکہ و انفرادی بیانات میں زور دیا کہ صحافیوں کی زبان بندی کے لیے دھونس اور دھمکیوں کا استعمال بند کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو کسی صحافتی رپورٹ پر اعتراض ہے تو اس کا جواب دلیل اور قانونی فورم پر دیا جائے نہ کہ اہل خانہ کو ہراساں کیا جائے، انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے صرف بیانات کافی نہیں بلکہ حکومت کو عملی اقدامات اور مؤثر حفاظتی نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کا صدر وزیراعظم سے نوٹس کا مطالبہ
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے صدرِ مملکت، وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیرِ اطلاعات اور وفاقی وزیرِ داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں۔
یونین نے حکام سے متاثرہ سی ای او اور ان کے اہل خانہ کو فوری فول پروف تحفظ فراہم کرنے اور این سی سی آئی اے کو بلا تاخیر اور بلا امتیاز شفاف تحقیقات کی ہدایت جاری کرنے کا زور دیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صحافیوں کی آواز دبانے کی ہر کوشش کے خلاف صحافتی برادری آئینی و قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔