وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کو اقتدار میں واپسی کے خواب دیکھنا چھوڑ دینے چاہئیں، انہیں اپنے 13 سالہ دورِ حکومت میں کیے گئے اقدامات اور کارکردگی کا عوام کو جواب دینا ہوگا۔
بٹگرام میں یومِ نجات کے سلسلے میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت اور اس کے ارکان اسمبلی اب بھی حکومت کی بحالی کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، تاہم انہیں یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے کہ محض دعوؤں اور نعروں سے دوبارہ اقتدار حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے 13 سالہ دورِ اقتدار میں عوام کو ترقی اور خوشحالی دینے کے بجائے کرپشن اور لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں دیا۔ صوبے کے عوام نے طویل عرصے تک پی ٹی آئی کو حکمرانی کا موقع دیا، لیکن انہیں درپیش مسائل حل کرنے اور عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکامی ہوئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تمام ارکان اسمبلی، وزرا اور قیادت کو اپنے دورِ حکومت میں کیے گئے فیصلوں اور اقدامات کا حساب دینا ہوگا،کوئی بھی سیاسی جماعت یا رہنما اپنے ماضی کی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا، عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوئے ان کے لیے کیا کام کیے گئے اور قومی وسائل کہاں خرچ ہوئے۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت کو اپنے دورِ حکومت کے معاملات کا جواب دینا ہوگا اور صرف سیاسی بیانات کے ذریعے ماضی کی کارکردگی سے توجہ نہیں ہٹائی جاسکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو حکومت کی بحالی کے خواب دیکھنے کے بجائے اپنے سابقہ دورِ اقتدار کی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔ عوام اب نعروں کے بجائے عملی کارکردگی اور جواب دہی چاہتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ سیاسی قیادت کو عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کا جواب دہ ہونا چاہیے اور اقتدار میں رہنے والے افراد کو اپنے فیصلوں اور اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
