آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ صوبے میں پولیس فورس کی استعداد کار بڑھانے، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانے اور جدید سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس کے لیے 7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو جدید اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیاں اور دیگر ضروری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔آئی جی پولیس کے مطابق صوبے میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی کام جاری ہے۔
پشاور سیف سٹی منصوبہ فعال ہو چکا ہے، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت میں سیف سٹی منصوبوں پر 90 فیصد سے زائد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے شہروں کی نگرانی، جرائم کی روک تھام اور سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز اور 40 حساس تحصیلوں میں ڈرون جیمرز نصب کرنے کا منصوبہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دہشت گردی اور دیگر سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید حفاظتی انتظامات کو مؤثر بنانا ہے، خصوصاً حساس علاقوں میں ڈرون کے ممکنہ استعمال کو روکنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں کے حوالے سے بھی اہم بات کرتے ہوئے کہا کہ چاروں صوبوں میں پولیس کی تنخواہوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو خیبر پختونخوا پولیس تیسرے یا چوتھے نمبر پر آتی ہے۔ پولیس فورس کی مالی مشکلات اور خدمات کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تنخواہوں میں بہتری کی منظوری دے دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار مشکل ترین حالات میں فرائض انجام دے رہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر موجود ہیں، اس لیے ان کی فلاح و بہبود، جدید وسائل کی فراہمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
آئی جی پولیس کے مطابق جدید اسلحے، بلٹ پروف گاڑیوں، سیف سٹی منصوبوں اور ڈرون جیمرز کی تنصیب جیسے اقدامات سے صوبے میں پولیس کے سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ اہلکاروں کی تنخواہوں میں بہتری سے فورس کے حوصلے اور کارکردگی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
