مولانا فضل الرحمٰن کو وفاقی آئینی عدالت سے منہ کی کھانی پڑی، مخصوص نشستوں کے تنازعے پر جے یو آئی کی اپیل عبرت ناک طور پر خارج

مولانا فضل الرحمٰن کو وفاقی آئینی عدالت سے منہ کی کھانی پڑی، مخصوص نشستوں کے تنازعے پر جے یو آئی  کی اپیل عبرت ناک طور پر خارج

جمعیت علمائے اسلام (ف) کو مخصوص نشستوں کے تنازعے پر وفاقی آئینی عدالت سے بڑا دھچکا لگ گیا، عدالت نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے جے یو آئی کی اپیل خارج کردی۔

چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نے جے یو آئی کی مخصوص نشست سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران جے یو آئی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پارٹی نے مخصوص نشستوں کے لیے چار نام الیکشن کمیشن کو فراہم کیے تھے، تاہم الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کے لیے جمع کرائی گئی فہرست میں اپنی مرضی سے تبدیلی نہیں کرسکتا۔

وکیل جے یو آئی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد کیس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کا مؤقف ہے کہ صدف احسان ان کی امیدوار نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود پارٹی کو کہا جا رہا ہے کہ یہی ان کی جماعت کی امیدوار ہیں۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اگر کسی سیاسی جماعت کی جانب سے امیدواروں کی فہرست میں کوئی غلطی یا کمی رہ گئی تھی تو الیکشن کمیشن اس کی درستگی کے لیے جماعت سے رجوع کر سکتا تھا، لیکن فہرست میں تبدیلی کا اختیار استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:بینک ٹرانزیکشنز اور ظاہر کردہ وسائل کا جائزہ شروع، فضل الرحمٰن کے نیٹ ورک کی کالی کمائی سفید کرنے کے دن ختم

جے یو آئی کے وکیل نے اپنے دلائل میں مخصوص نشستوں کے لیے پارٹی کی جانب سے فراہم کردہ ناموں اور الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اعتراضات اٹھائے اور مؤقف اپنایا کہ پارٹی کی نامزدگیوں کو نظرانداز کرکے کسی دوسرے نام کو جماعت کا امیدوار قرار دینا درست نہیں۔

تاہم وفاقی آئینی عدالت نے جے یو آئی کے مؤقف سے اتفاق نہیں کیا اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پارٹی کی اپیل خارج کردی۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد مخصوص نشست کے تنازعے پر جے یو آئی کی قانونی درخواست مسترد ہوگئی۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles