ایلون مسک نے فلمی دنیا میں قدم رکھ دیا، ایک ارب ڈالر کہاں لگا دیے

ایلون مسک نے فلمی دنیا میں قدم رکھ دیا، ایک ارب ڈالر کہاں لگا دیے

ٹیکنالوجی اور سیاست کے بعد دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ایلون مسک نے اب ہالی ووڈ میں بھی قدم جمانے کی تیاری شروع کردی ہے۔ انہوں نے معروف تفریحی کمپنی اسکائی ڈانس میں تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جس کے بعد فلمی صنعت میں ان کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مالک ایلون مسک کی اس سرمایہ کاری کو ہالی ووڈ میں ان کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مسک پہلے ہی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی کمپنی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے سرگرم ہیں، لیکن اب ان کی توجہ فلم سازی اور تفریحی صنعت کی طرف بھی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ہالی وڈ اداکارہ کماری جانسن 50 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں

مصنوعی ذہانت سے فلم سازی کا تجربہ

ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ویڈیو ٹیکنالوجی ’گروک امیجن‘ کے ذریعے یونانی داستان ’دی اوڈیسی‘ پر مبنی سات منٹ کی ایک فلم بھی تیار کی گئی ہے۔

تاہم اس فلم کو سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل ملا اور متعدد صارفین نے اس کے معیار پر تنقید کی۔

اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسک مصنوعی ذہانت کو صرف ٹیکنالوجی تک محدود رکھنے کے بجائے فلم سازی اور تخلیقی شعبوں میں بھی استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ایلون مسک ہالی ووڈ میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق ہالی ووڈ میں ایلون مسک کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیچھے کئی مقاصد ہوسکتے ہیں۔ ان میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنا، تفریحی صنعت میں منافع بخش کاروباری مواقع حاصل کرنا اور عالمی ثقافتی اثرورسوخ میں اضافہ کرنا شامل ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی پہچان بنانے والے ایلون مسک ہالی ووڈ میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اور کیا مصنوعی ذہانت مستقبل میں فلم سازی کے روایتی انداز کو تبدیل کر سکے گی۔

editor

Related Articles