وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے خوشخبری، فلاحی گرانٹس کی درخواستیں اب آن لائن ہوں گی

وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے خوشخبری، فلاحی گرانٹس کی درخواستیں اب آن لائن ہوں گی

وفاقی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے فلاحی گرانٹس کے حصول کا طریقہ آسان بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اب ملازمین گھر بیٹھے آن لائن درخواستیں جمع کرا سکیں گے اور اپنی درخواستوں کی پیش رفت بھی دیکھ سکیں گے۔

اس مقصد کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) ایک ڈیجیٹل پورٹل تیار کر رہا ہے، جس کے ذریعے وفاقی ملازمین کے بینوولنٹ اور گروپ انشورنس فنڈز (ایف ای بی اینڈ جی آئی ایف) کی خدمات آن لائن فراہم کی جائیں گی۔

وزارتِ آئی ٹی کی دستاویز کے مطابق، اس نظام کا مقصد کاغذی کارروائی اور دستی درخواستوں کے روایتی طریقہ کار کی جگہ ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرانا ہے، جن میں درخواستوں کی خودکار جانچ اور دعووں کی تازہ ترین صورتحال معلوم کرنے کی سہولت بھی شامل ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں گرتے ہی بڑا اعلان، ٹرانسپورٹرز نے بھی   خوشخبری سنا دی

آن لائن درخواست اور کلیم ٹریک کرنے کی سہولت

دستاویز کے مطابق، ایف ای بی اینڈ جی آئی ایف کے بورڈ آف ٹرسٹیز نے 4 مارچ 2026 کو اپنے 131ویں اجلاس میں اس منصوبے کے لیے این آئی ٹی بی کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس فیصلے کے بعد دونوں اداروں نے پورٹل کے ڈیزائن کو حتمی شکل دے دی ہے۔

یہ پورٹل اس وقت تیاری کے مراحل میں ہے۔ ڈیولپمنٹ، ٹیسٹنگ اور تنصیب کا عمل مکمل ہونے کے بعد اسے مستحق افراد کے لیے دستیاب کیا جائے گا۔

نئے نظام کے تحت صارفین آن لائن درخواستیں جمع کرا سکیں گے، شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے اپنی شناخت کی توثیق کروا سکیں گے اور درخواستوں کی پیش رفت سے متعلق اطلاعات حاصل کر سکیں گے۔

پورٹل میں درخواستوں کی خودکار ڈیجیٹل پراسیسنگ، مستحقین کی معلومات کے لیے مرکزی نظام، انتظامی رپورٹس اور نگرانی کے ٹولز بھی شامل ہوں گے، تاکہ شفافیت اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔

1,406 فلاحی درخواستیں تاحال زیرِ التوا

دستاویز کے مطابق، رواں مالی سال میں 31 اگست 2026 تک ایف ای بی اینڈ جی آئی ایف کو پانچ فلاحی اسکیموں کے تحت مجموعی طور پر 8 ہزار 637 درخواستیں موصول ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری؟ 20 سال بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش

ان میں سے 7 ہزار 231 درخواستوں پر کارروائی مکمل کی جا چکی تھی، جبکہ ایک ہزار 406 درخواستیں زیرِ التوا تھیں۔ ان اسکیموں میں شادی گرانٹ، ریٹائرمنٹ پر الوداعی گرانٹ، تعلیمی وظائف، فیس کی واپسی اور ماہانہ بینوولنٹ گرانٹ شامل ہیں۔

موجودہ طریقہ کار کے تحت مکمل دستاویزات کے ساتھ موصول ہونے والے فلاحی کلیمز نمٹانے کے لیے 45 دن مقرر ہیں۔ جن درخواستوں پر اعتراضات ہوں، انہیں مطلوبہ دستاویزات یا اضافی معلومات جمع کرانے کے بعد نمٹایا جاتا ہے۔

پورٹل کی تیاری میں تاخیر ہوئی تو کیا ہوگا؟

وزارتِ آئی ٹی کی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ اگر این آئی ٹی بی طے شدہ مدت میں پورٹل تیار نہ کر سکا تو اس کی ضروریات کو مجوزہ انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ای آر پی) منصوبے میں شامل کر لیا جائے گا، تاکہ مستحقین کو فراہم کی جانے والی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن یقینی بنائی جا سکے۔

ایف ای بی اینڈ جی آئی ایف پہلے ہی ایک جدید ویب بیسڈ ای آر پی نظام کی خریداری کے عمل میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس نظام میں انسانی وسائل، سرمایہ کاری، مالیات، اکاؤنٹس، چندہ وصولی، آن لائن درخواستوں، دفتری کارروائی اور مستحقین کی خدمات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

editor

Related Articles