مذہب کا لبادہ اوڑھ کر غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ ، فضل الرحمان سے منسلک مدارس کی عمارتوں کے خلاف سی ڈی اے کا باضابطہ ایکشن، نوٹسز جاری!

مذہب کا لبادہ اوڑھ کر غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ ،  فضل الرحمان سے منسلک مدارس کی عمارتوں کے خلاف سی ڈی اے کا باضابطہ ایکشن، نوٹسز جاری!

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قانون کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھنے والی فضل الرحمٰن الیون کے خلاف کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے دوٹوک اور باضابطہ قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔

سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول ونگ نے وفاقی دارالحکومت کے پوش اور حساس ترین علاقوں میں قائم دو بڑے مدارس کے خلاف بلڈنگ بائی لاز اور تعمیراتی قوانین کی دھجیاں اڑانے پر ہنگامی نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ سرکاری دستاویزات میں تکنیکی طور پر مدارس کے نام درج ہیں لیکن یہ املاک مولانا فضل الرحمٰن کے اس وسیع تر سیاسی و مذہبی نیٹ ورک کا حصہ ہیں جس کے ذریعے دہائیوں سے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کر کے قیمتی سرکاری زمینیں گھیرنے اور غیر قانونی تعمیرات کا دھندہ چلایا جا رہا ہے۔

دستاویزات کے مطابق سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف بلڈنگ کنٹرول کی طرف سے مدرسہ اختر العلوم (بلال ٹاؤن، کورنگ نالہ) کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس مدرسے کی وسیع و عریض عمارت کا سرے سے کوئی بلڈنگ پلان یا نقشہ سی ڈی اے سے منظور ہی نہیں کرایا گیا۔ اتھارٹی نے اسلام آباد بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کی سنگین خلاف ورزی پر 15 دن کے اندر اندر نقشہ جمع کرانے کا حتمی حکم دیا ہے، بصورتِ دیگر عمارت سیل کر دی جائے گی۔

سی ڈی اے نے واضح کر دیا ہے کہ 15 روز کی مہلت ختم ہوتے ہی قانون کا فولادی ہتھوڑا چلے گا اور کسی بھی مذہبی یا سیاسی اثر و رسوخ کو خاطر میں لائے بغیر ان عمارتوں کو سیل اور مسمار کر دیا جائے گا۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر کے بعد اب سی ڈی اے بھی فضل الرحمٰن الیون کی اس تعمیراتی بدمعاشی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرے

یہ بھی پڑھیں:ماضی کی سیاسی سرپرستی اور لاپرواہی کا خاتمہ ، خیبر پختونخوا کی 35 لیبر کالونیوں کو قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کے لیے گرینڈ آپریشن شروع

سیاسی اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے دل میں مدارس کے نام پر ہونے والی یہ غیر قانونی تعمیرات کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ یہ مولانا فضل الرحمٰن کا وہ آزمودہ کارستانی نیٹ ورک ہے جس کے تحت وہ رئیل اسٹیٹ اور سرکاری اراضی کو مالِ غنیمت سمجھ کر غصب کرنے کے ماہر مانے جاتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے اسعد محمود کے خلاف ملتان میں قبضے کی زمین پر مدرسہ کھڑا کرنے اور دکانوں کی کالی کمائی ہضم کرنے کا انکشاف ہو چکا ہے، جس پر نیب 10 نومبر 2026 کو تفتیش کرنے جا رہی ہے۔ منگھوپیر میں جے یو آئی (ف) کے رہنما راشد سومرو کے زیرِ اثر 25 ایکڑ سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے کی فضائی ویڈیو پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔ خود مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد سیکٹر G-6/4 میں جس سرکاری اراضی اور مکان کو استعمال کر رہے ہیں، اس کے خلاف بھی سی ڈی اے بائی لاز کی خلاف ورزی کا نوٹس جاری کر چکی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ہمیشہ حکومتوں میں شمولیت اور سیاسی بلیک میلنگ کو اپنے اس بے نامی اور غیر قانونی تعمیراتی نیٹ ورک کو تحفظ دینے کے لیے استعمال کیا۔ عوام کو شریعت کا درس دینے والے اس ٹولے کا اپنا یہ حال ہے کہ دارالحکومت کے قوانین کو پیروں تلے روند کر مدارس قائم کیے گئے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles