وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان اور مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی دہشت گردوں کی سہولت کاری نہ کرتی تو صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ عوام پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے کیونکہ اس جماعت نے انہیں دہشت گردوں سے تحفظ فراہم نہیں کیا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز ضلع ملاکنڈ کی تحصیل بٹ خیلہ میں مسلم لیگ (ن) کے زیر اہتمام جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انجینئر امیر مقام کی قیادت میں منعقدہ جلسے کو خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے 14 سالہ اقتدار کے خاتمے کی خوشی میں ’’یومِ نجات‘‘ کا نام دیا گیا تھا، جس میں پارٹی کے ہزاروں کارکنوں اور شہریوں نے شرکت کی۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر امیر مقام نے کہا کہ پی ٹی آئی کا دور اقتدار کرپشن کا راج تھا، صوبے میں 13 سالہ حکمرانی کا حساب لیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے اقتدار کے خاتمے سے خیبرپختونخوا میں امن، ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا اور صوبے کے وسائل عوام پر خرچ ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی دہشت گردوں کی سہولت کاری نہ کرتی تو صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی نوبت نہ آتی۔ عوام نے پی ٹی آئی کا ساتھ نہیں دیا کیونکہ یہ جماعت انہیں دہشت گردوں سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے عوام کو امن، تحفظ، ترقی اور خوشحالی فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی کا اقتدارمیں واپسی کا خواب پورا نہیں ہوگا، 13 سالہ دورِ حکومت کا حساب دینا پڑے گا،امیر مقام
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایک طرف پاک فوج، پولیس اور سکیورٹی اداروں کے اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہوں اور دوسری طرف صوبائی حکومت دہشت گردوں کی ترجمانی کرے تو یہ صورتحال قابل قبول نہیں۔ دہشت گردوں کو بھتہ دینے والے عناصر عوام کو دہشت گردوں سے تحفظ فراہم نہیں کرسکتے۔
امیر مقام نے کہا کہ گزشتہ 13 سال کے دوران صرف پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی دولت میں اضافہ ہوا، جبکہ خیبرپختونخوا کے غیور عوام غربت کا شکار ہوتے گئے۔ جو جماعت ایک بی آر ٹی اور ایک اسپتال درست طریقے سے تعمیر اور چلانے میں کامیاب نہ ہوسکی، وہ پورا صوبہ کیسے چلا سکتی تھی؟
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مولانا جنہیں پہلے صیہونی ایجنٹ کہتے تھے، آج خود انہی کی زبان بول رہے ہیں۔
انجینئر امیر مقام نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اب کھوکھلے نعروں اور سوشل میڈیا کے پروپیگنڈے کے بجائے امن، ترقی اور عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی 13 سال تک صوبے میں اقتدار میں رہنے کے باوجود عوام کو بنیادی مسائل سے نجات دلانے اور صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ناکام رہی۔
جلسے میں رکن صوبائی اسمبلی طارق اعوان، مسلم لیگ (ن) کے صوبائی نائب صدر ایصال خان، ضلع ملاکنڈ کے صدر سجاد احمد خان، جنرل سیکرٹری گل زمان خان، تحصیل صدر بٹ خیلہ جاوید الیف خان، سٹی صدر ایڈووکیٹ علی محمد خان، یوتھ کوآرڈینیٹر ملاکنڈ ارشد علی، وکیل احمد خان اور دیگر پارٹی رہنما و عہدیداران بھی موجود تھے۔
