اداروں اور ملک کے خلاف زہرافشانی نا قابلِ قبول،جیل میں قید فرخ کھوکھر نےبھی فضل الرحمن سے راہیں جدا کر لیں

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ان کی ہی پارٹی کے اندر سے ایک سخت اور رسوا کن سیاسی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے جن سیاسی رہنماؤں کو کروڑوں روپے کے مبینہ سیاسی دباؤ اور فنڈنگ کے عوض پارٹی کی صفوں میں شامل کیا تھا، اب وہی رہنما ان کی ملک دشمن اور فوج مخالف پالیسیوں کو سرِعام ننگا کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں راولپنڈی کے سرکردہ رہنما فرخ کھوکھر نے جیل سے ہی مولانا فضل الرحمان کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) سے باضابطہ اور مکمل علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔

پاک فوج مخالف بیانیے سے شدید اختلاف

فرخ کھوکھر کے میڈیا کوآرڈینیٹر کی جانب سے جاری کردہ خصوصی و اہم پیغام میں کہا گیا ہے کہ فرخ کھوکھر نے یہ قدم مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف مسلسل دیے جانے والے تند و تیز، متنازع اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ردِعمل میں اٹھایا ہے۔

 جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے مولانا کے بیانیے پر کاری ضرب

واضح رہے کہ فرخ کھوکھر اس وقت جیل میں قید ہیں، مگر انہوں نے قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود جے یو آئی (ف) کی موجودہ قیادت کی منفی اور فوج مخالف سیاست کے سامنے بندھ باندھنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے ترجمان کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کے موقف پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ فوج اور قومی ادارے ان کی ریڈ لائن ہیں۔

سیاسی و معاشی حلقوں میں اس خبر کے سامنے آنے کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کروڑوں کی سیاست کرنے والے مولانا فضل الرحمان کا فوج مخالف بیانیہ اب ان کی اپنی پارٹی کے اہم اراکین کے لیے بھی نا قابلِ قبول ہو چکا ہے، جس سے راولپنڈی اور اسلام آباد خطے میں جے یو آئی (ف) کا سیاسی وجود شددید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔

editor

Related Articles