خیبر پختونخوا میں مالیاتی بحران سنگین صورت اختیار کر گیا اور جامعات فنڈز کی عدم دستیابی سے مشکلات کا شکار ہیں اور شانگلہ میں بنائی گئی یونیورسٹی دو سال بعد مالیاتی بحران کے سبب بند ہو نےکےقریب پہنچ گئی ہے۔
دو سال قبل یونیورسٹی کا درجہ پانے والی یونیورسٹی آف شانگلہ بند ہونے کے دہانی پر پہنچ گئی ہے۔دستاویز کے مطابق یونیورسٹی کو شدید مالی مشکلات کا سامنے ہے جس کی وجہ سے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات چلانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق 2016 میں سوات یونیورسٹی کا شانگلہ میں کیمپس کا آغاز کیا گیا تھا جہاں پر تعلمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز 2017 اور 2018 میں کیا گیا۔ سال 2022 میں صوبائی حکومت نے اسے یونیورسٹی کا درجہ دیتے ہوئے باقاعدہ اسے یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل کیا لیکن ذرائع کے مطابق اب تک یونیورسٹی نے جاری اخراجات اور تںنخواہوں کے مد میں کروڑوں روپے خرچ تو کئے لیکن نہ ریونیو پیدا کی اور نہ ہی طلبہ کی تعداد میں کوئی خاص اضافہ کیا گی ہے ۔ذرائع کے مطابق سیاسی پوائنٹ سکورننگ اور جامعات کی تعداد بڑھانے کی خواہش پر بننے والی سابق حکومت کی یونیورسٹی اب دو سال بعد بند ہونے کے قریب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی سہولت کاری کا الزام ، مزید 2 افسران سے پوچھ گچھ شروع
ذرائع کے مطابق 2022 کو اس کیمپس کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا لیکن اب یہ یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ مالی بحران کے باعث یونیورسٹی میں زیر تعلیم 679 طلبہ کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ یونیورسٹی کے قیام سے اب تک یونیورسٹی کو صوبائی حکومت نے ایک پائی تک جارہی نہیں کیا ہے جبکہ جامعہ کو ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے جاری کی گئی 2 سو 22 ملین روپے یونیورسٹی اخراجات پر خرچ چکی ہے۔ذرائع کے مطابق یونیورسٹی آف شانگلہ اب ایک بوجھ بن چکی ہے اور اسے نہ صوبائی حکومت اور نہ ہی ہائیر ایجوکیشن چلانے کے قابل ہے۔ فنڈز نہ ہونے سے یونیورسٹی کے 14 فیکلٹی ممبرز اور 20 سے زائد دیگر عملے کو تنخواہ دینا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس یونیورسٹی کو کسی حد تک مالی سپورٹ یونیورسٹی آف سوات سے فراہم کی جارہی تھی لیکن اب اسے بھی مالی مشکلات کا سامنا ہے اس لئے انہوں نے بھی اس کو اسپورٹ کرنے سے معزرت کرلی ہے۔ذرائع کے مطابق اس یونیورسٹی کے قیام سے متعلق صوبائی انسپکشن ٹیم نے بھی سفارشات تیار کی تھی کہ الپوری شانگلہ میں یونیورسٹی کا قیام ممکن نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بھی یہاں یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور اب حکومت مجبور ہے کہ اس کو بند کریں۔ذرائع کے مطابق 52 کنال 6 مرلے پر محیط شانگلہ یونیورسٹی اب درد سر بن گی ہے۔یونیورسٹی کے سالانہ اخراجات زیادہ اور آمدن کم ہے کیونکہ یہاں طلبہ کی تعداد انتہائی کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومتی عدم دلچسپی کے سبب پولیس کمپلینٹ اتھارٹی سے محروم
اس حوالے سے وائس چانسلر شانگلہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حسن شیر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ شانگلہ یونیورسٹی کو صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز جاری نہیں کئیے جارہے ہیں۔ بار بار فنڈز کے اجراء کے لیے خطوط لکھے ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے۔وائس چانسلر شانگلہ یونیورسٹی نے آزاد ڈیجیٹل کو بتایا کہ شانگلہ یونیورسٹی کو سب کیمپس کا درجہ دیا جائے تو شائد مسائل کا حل کسی حد تک نکل آئے۔ان ہے مطابق اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عابد کے ساتھ شانگلہ یونیورسٹی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے اور امید ہے کہ اس کا کوئی مناسب حل نکل آئے گا۔

