خیبر پختونخوا میں 20 دن قبل گڈ گورننس کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کو ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ گڈ گورننس کو یقینی بنائے لیکن اب اسکا نام پی ٹی آئی انٹرنل اکاؤنٹیبیلٹی کمیٹی رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں پہلے سے موجود تحقیقاتی اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کرپشن کی روک تھام کیلئے قائم کمیٹی کا نام 20 دن بعد تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 20 دن قبل گڈ گورننس کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کو ٹاسک حوالے کیا گیا تھا کہ وہ گڈ گورننس کو یقینی بنائے اور کرپشن کے شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے رپورٹ مرتب کریں۔لیکن اب اس کمیٹی کا نام پی ٹی آئی انٹرنل اکاؤنٹیبیلٹی کمیٹی رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔بہتر کام کرنے کے لیے کمیٹی کے لئے الگ سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ قائم ہونے والی پی ٹی آئی انٹرنل اکاؤنٹیبیلٹی کمیٹی کے لئے دفتر،سٹاف اور دیگر سہولیات مہیا کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کو 10 سال سے ادائیگی کے باوجودبلٹ پروف گاڑیاں نہ مل سکیں
ذرائع کے مطابق کسی وزیر ،مشیر یا معاون خصوصی اور سیکرٹری کے خلاف شکایات درج کرنے کیلئے الگ ویب سائٹ قائم کیا جائے گا نہ صرف یہ بلکہ کرپشن کی نشاہدہی کرنے کیلئے مختلف ذرائع سے بھی کمیٹی کو درخواست یا شکایات دی جاسکے گی۔ذرائع کے مطابق کرپشن کی نشاندہی کرنے والوں کو باقاعدہ ای میل اور سول میڈیا پر شکایات درج کرنے کی سہولیات بھی میسر ہوگی۔جبکہ وہ سیکرٹریٹ آکر بھی شکایات درج کرسکے گا۔ پی ٹی آئی انٹرنل اکاؤنٹیبیلٹی کمیٹی بھی تین ممبران پر مشتمل ہوگی اور ممکن ہے کہ وہی تین ممبران ہو جو گڈگورننس کمیٹی کے ممبر تھے۔ گڈ گورننس کمیٹی کے ممبر اور سینئر قانون دان قاضی انور ایڈووکیٹ نے آزاد ڈیجیٹل کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور سے بات کی ہے اور جلد سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا،ممبر کمیٹی کا بتانا تھا کہ پی ٹی آئی انٹرنل اکاونٹیبیلٹی کمیٹی اب قاعدگی سے کرپشن کے خلاف کام کرے گی کیونکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایات ہے کہ اس کمیٹی کو مزید موثر بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلی سندھ اور چیئرمین نیب نے اربوں روپے کی زمین واگزار کرالی
ممبر کمیٹی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک سابق وزیر شکیل خان کے علاؤہ کسی کو طلب نہیں کیا ہے اب تک کسی وزیر یا سیکرٹری کے خلاف شکایات نہیں ملی اور نہ ہی کسی نے کوئی ثبوت فراہم کیا ہے۔قاضی انور کے مطابق کسی کے خلاف بھی کرپشن کی شکایت ہو تو مکمل معلومات دے پھر کارروائی کرنا ہمارا کام ہے۔

