ملک میں گندم اور آٹے کی قلت پر قابو پانے کیلئے حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ بیرون ممالک سے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرے گی تاکہ صوبوں کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے ۔
وفاقی حکومت نے ملک بھر میں گندم کی بروقت شفاف اور منصفانہ فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام صوبوں سے ان کی مجموعی گندم کی ضروریات تحریری طور پر طلب کر لی ہیں تاکہ دستیاب ذخائر اور درآمدی گندم کی بنیاد پر تقسیم کا جامع منصوبہ مرتب کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ویٹ بورڈ کے اجلاس میں ملک میں گندم کی موجودہ صورتحال، پاسکو کے ذخائر، صوبوں کی ضروریات اور درآمدی منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ گندم کی طلب کے حوالے سے صرف زبانی درخواستیں کافی نہیں ہوں گی تمام صوبائی حکومتیں اپنی ضروریات تحریری طور پر فراہم کریں تاکہ شفاف انداز میں فیصلے کیے جا سکیں۔
اجلاس کے دوران صوبوں نے اپنی ابتدائی ضروریات سے بھی آگاہ کیا۔ حکومت پنجاب نے 10 لاکھ ٹن، سندھ نے 7 لاکھ ٹن، خیبرپختونخوا نے 2 لاکھ ٹن جبکہ بلوچستان نے 50 ہزار ٹن گندم کی طلب پیش کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبوں کی مجموعی طلب پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے دستیاب ذخائر سے زیادہ ہے جس کے باعث درآمدی گندم کی ضرورت پیش آئی۔ حکام کے مطابق ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کا اصولی فیصلہ بھی صوبوں کی ابتدائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔
رانا تنویر حسین نے ہدایت کی کہ درآمدی گندم کے پورے عمل میں تمام صوبوں کو اعتماد میں لیا جائے خصوصاً گندم کے معیار (کوالٹی) کے معاملے پر صوبائی حکومتوں کی مشاورت اور منظوری کو یقینی بنایا جائے تاکہ بعد میں کسی قسم کے تنازع یا اعتراض کی گنجائش نہ رہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ درآمد شدہ گندم صوبوں کی حقیقی ضروریات کے مطابق تقسیم کی جائے گی اور اس پورے عمل میں شفافیت، مساوات اور انصاف کے اصولوں کو مقدم رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مکمل تعاون کے ذریعے ملک بھر میں گندم کی مسلسل دستیابی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو کسی قسم کی قلت یا بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے اور گندم کی درآمد، معیار کی جانچ، ذخیرہ اندوزی اور تقسیم سے متعلق تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں، تاکہ ضرورت کے وقت گندم کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔