(عرفان خان)
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کی زیرصدارت کابینہ اجلاس جاری ہے۔ اجلاس میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت، عمران خان کی فوری رہائی، مراد سعید کیخلاف مقدمات کے خاتمے، جموں و کشمیر پر بھارت کا ناجائز قبضہ اور جرمنی میں افغان شدت پسندوں کی جانب سے پاکستانی قونصلیٹ پر حملے کی مذمت کی قراردادیں پیش کی گئیں۔
خیبرپختونخوا کابینہ نے صوبائی اسمبلی کی مشترکہ قرارداد نمبر 56 کو وفاقی حکومت کو بھیجنے کی منظوری دے دی۔ قرارداد میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کو فلسطینی آزادی کی جدوجہد کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے۔ قرارداد میں فلسطینی عوام کی آزادی کی جدوجہد کی مکمل حمایت کی گئی ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عالمی برادری فلسطینی عوام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ان پر ہونے والے مظالم کا خاتمہ کرے۔
کابینہ نے صوبائی اسمبلی کی مشترکہ قرارداد نمبر 35 کو وفاقی حکومت کو بھیجنے کی منظوری دی ہے۔ قرارداد میں انسانی حقوق کمیشن کی رائے کی توثیق کی گئی ہے جو جنرل اسمبلی کی قرارداد 1991/24 کے تحت تشکیل دی گئی۔ انسانی حقوق کمیشن کے مطابق عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمات میں مطلوبہ ثبوت کی کمی تھی۔ چلائے گئے مقدمات مختلف حقوقِ آزادی اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے خلاف ہیں۔عمران خان کی عمر 71 سال ہونے کے پیش نظر انہیں جسمانی اور ذہنی صحت کے خطرات کا سامنا ہے۔
عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو غائب کر دیا گیا ہے اور ملک بھر میں غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن نے اپنے موقف میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ عمران خان کی جبری حراست کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں اورانسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف اقدامات کیے جائیں۔
کابینہ نے صوبائی اسمبلی کی مشترکہ قرارداد نمبر 50 کو وفاقی حکومت کو بھیجنے کی منظوری دے دی۔ قرارداد میں سابقہ ایم این اے مراد سعید کے خلاف جھوٹے مقدمات کے خاتمے اور ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کابینہ نے صوبائی اسمبلی کی قرارداد نمبر 65, 66 & 67 کو وفاق کو بھیجنے کی منظوری دے دی۔ قراردادوں کے ذریعے اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر پر بھارت کے 76 سالہ غیر قانونی قبضے کا خاتمہ کیا جائے۔ بھارتی حکومت کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے استحصال کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ 1947 کے معاہدے کے تحت کشمیر کو پاکستان کا لازمی حصہ قرار دیا گیا تھا جو بھارت سے ہضم نہ ہوا اور جموں و کشمیر پر قبضہ کر لیا۔مقبوضہ کشمیر کے ہمارے بھائی اور بہنیں بھارتی قابض افواج کی بربریت کا سامنا کر رہے ہیں۔
کابینہ نے صوبائی اسمبلی کی مشترکہ قرارداد نمبر 48 کو وفاق کو بھیجنے کی منظوری دی ہے۔ قرارداد میں جرمنی میں افغان شرپسندوں کی جانب سے پاکستانی قونصلیٹ پر حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

