پی ٹی آئی خود اپنے بچوں کو کھانے والی بلا بن گئی ہے، اقرار الحسن

پی ٹی آئی خود اپنے بچوں کو کھانے والی بلا بن گئی ہے، اقرار الحسن

عوام راج پارٹی کے سربراہ اور سینئر صحافی اقرار الحسن نے آزاد ڈیجیٹل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں   سندھ کی صورتحال، پیپلز پارٹی کی طویل حکمرانی، چھوٹے انتظامی یونٹس، پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات، موروثی سیاست اور حکومتی وسائل کے استعمال سمیت مختلف اہم سیاسی و سماجی معاملات پر کھل کر گفتگو کی۔

اقرار الحسن نے کہا کہ سندھ کی بدحالی کو محض اعداد و شمار سے بیان نہیں کیا جا سکتا، صوبے کے کئی علاقوں میں آج بھی لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ بعض علاقوں میں بچے گندے پانی سے پینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی سندھ میں طویل حکمرانی اور سندھ کارڈ کی سیاست پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔

سندھ کی اصل حالت اعداد و شمار سے بھی بدتر 

ایک سوال کے جواب میں اقرار الحسن نے کہا کہ سندھ کی کسمپرسی اور ابتر صورتحال کو محض اعداد و شمار سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول سندھ کے کئی علاقوں میں غربت اور بدحالی اس حد تک ہے کہ لوگ سڑکوں پر گزرنے والی گاڑیوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہیں۔

گھارو تک سڑکوں پر ہاتھ پھیلاتے لوگ ملیں گے

سندھ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اقرار الحسن نے کہا کہ کراچی سے صرف ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر گھارو یا سندھ کے کسی بھی علاقے کا رخ کیا جائے تو سڑکوں کے کنارے بچوں، خواتین، بزرگوں اور نوجوانوں کو مدد کے لیے ہاتھ پھیلائے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض بھکاری نہیں بلکہ مقامی رہائشی ہیں جنہیں حالات نے اس مقام تک پہنچایا ہے۔

سندھ کے بچے گند ا پانی  پینے پر مجبور 

اقرار الحسن نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے بعض علاقوں میں آج بھی ایسے جوہڑ، تالاب اور گندے پانی کے ذخائر موجود ہیں جہاں لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے سندھ کے بچوں کو کتوں اور گدھوں کے ساتھ پانی پیتے دیکھا ہے۔

سندھ کی تقسیم نہیں، انتظامی یونٹس بنائے جائیں

صوبوں کی شناخت کے حوالے سے اقرار الحسن نے کہا کہ صوبائی شناخت ختم نہیں ہونی چاہیے، تاہم انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بنائے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اصل مزاحمت اس لیے سامنے آتی ہے کیونکہ موجودہ طاقت کے مراکز اپنے اختیارات اور سیاسی اثرورسوخ کو تقسیم نہیں کرنا چاہتے۔

پیپلز پارٹی اور سندھ کی سیاست پر سخت تنقید

 موروثی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے اقرار الحسن نے آصفہ بھٹو زرداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے خاندانوں کی نئی نسل بھی حکمرانی کے لیے سامنے آ رہی ہے، حالانکہ ان کے بقول عام لوگوں کی مشکلات اور روزمرہ زندگی کے مسائل سے ان کا براہِ راست تجربہ محدود ہے۔

عام آدمی کی مشکلات سے دور قیادت کیسے مسائل حل کرے گی؟

اقرار الحسن نے کہا کہ جو لوگ ٹوٹے ہوئے گھروں، خراب سڑکوں، لوڈشیڈنگ، بے روزگاری، مہنگائی، غربت اور ناانصافی کا سامنا نہیں کرتے، ان سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کے مسائل حل کریں گے۔

سندھ کارڈ کے نام پر سیاسی مفادات حاصل کرنے کا الزام

انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سندھ کی وحدت یا سندھ کارڈ کے نام پر سیاسی بیانیے کے پیچھے کیا مفادات ہیں۔ ان کے مطابق عوام کو اپنے حالات بدلنے کے لیے سیاسی شخصیات کی اندھی حمایت سے باہر آنا ہوگا۔

زرداری کا نعرہ ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘   

اقرار الحسن نے ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ کے نعرے کو سندھ کی صورتحال سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اگر نواب شاہ اور دیگر علاقوں کی حالت دیکھی جائے تو ان کے بقول حکمرانوں نے اپنے ہی عوام سے انتقام لیا ہے۔

نواب شاہ اور سیہون کی حالت دکھانے کا چیلنج

انہوں نے نواب شاہ، سیہون اور دادو سمیت مختلف علاقوں کی سڑکوں، سیوریج، پانی، اسکولوں اور ہسپتالوں کی حالت دیکھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں طویل عرصے سے حکومت کرنے والوں کو عوام کے سامنے اپنے کام کا جواب دینا چاہیے۔

وڈیرہ کلچر نے عوام کو ذہنی طور پر محکوم بنا دیا

اقرار الحسن نے سندھ کی سیاست میں وڈیرہ کلچر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق مقامی طاقتور طبقات اور عام لوگوں کے مفادات اس طرح ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں کہ عوام سیاسی طور پر انحصار اور محکومی کی کیفیت میں رہتے ہیں۔

 ایک مثالی شہر دکھا دیں،سندھ حکومت سے کھلا چیلنج

انہوں نے سندھ حکومت کے نمائندوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ کے کسی ایک گاؤں، شہر یا علاقے کو بطور ماڈل پیش کریں جہاں عوامی مسائل نمایاں طور پر حل کیے گئے ہوں۔

سندھ کی ترقی کا پنجاب سے موازنہ نہ کیا جائے

سندھ کی ترقی کو پنجاب میں لانے کے بیان پر اقرار الحسن نے کہا کہ سندھ کے عوام پر رحم کیا جائے اور سندھ کی موجودہ صورتحال کو پنجاب کے لیے ترقی کا نمونہ قرار نہ دیا جائے۔

نئے انتظامی یونٹس پر سیاسی مزاحمت  

چھوٹے انتظامی یونٹس کے معاملے پر اقرار الحسن نے کہا کہ موجودہ سیاسی طاقت کے مراکز اپنے اختیارات تقسیم کرنے کے خواہاں نہیں ہوں گے، اس لیے اس تجویز کی مخالفت اور مزاحمت متوقع ہے۔

مضبوط بلدیاتی نظام  ہی اختیارات کی منتقلی کا راستہ 

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کو مضبوط اور منظم کرنا ضروری ہے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اسی راستے سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

  ریفرنڈم ہوا تو سمال یونٹس کی حمایت زیادہ ہوگی

ایک ممکنہ ریفرنڈم کے بارے میں اقرار الحسن نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں حقیقی اور شفاف ریفرنڈم ہو تو ان کے خیال میں پاکستان کی اکثریت چھوٹے انتظامی یونٹس کے حق میں رائے دے سکتی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم سمیت مختلف جماعتوں کے ماضی کے مؤقف کا حوالہ بھی دیا۔

 سہیل آفریدی معاملے پر اصولی حمایت 

پی ٹی آئی سے متعلق ایک واقعے پر اقرار الحسن نے کہا کہ اگر کسی کے گھر میں توڑ پھوڑ ہوئی ہے تو اس کی مذمت ہونی چاہیے، تاہم انہوں نے اس واقعے کے ثبوت نہ ہونے کی بات بھی کی۔ ان کے مطابق بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ کسی کے گھر، چادر اور چار دیواری کی حرمت پامال نہ ہو۔

سیاسی رہنما کو گھر ٹھہرانے والے صحافی پر مفادات کا ٹکرائو

اقرار الحسن نے کہا کہ کسی صحافی کا کسی سیاسی جماعت کے رہنما یا وزیراعلیٰ کو ذاتی گھر میں ٹھہرانا مفادات کے ٹکراؤ کا سوال پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق صحافت اور سیاست کے درمیان واضح فاصلہ برقرار رہنا چاہیے۔

وزیراعلیٰ کے فنڈ سے 50 لاکھ روپے دینے پر اعتراض

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی سیاسی وابستگی رکھنے والے شخص کے گھر کو نقصان پہنچا ہے تو سرکاری خزانے سے اسے 50 لاکھ روپے کیوں دیے گئے، جبکہ پی ٹی آئی کے دیگر کارکنوں کے گھروں میں بھی ان کے بقول نقصانات ہوئے ہیں۔

’’اپنے دوست کو 50 لاکھ‘‘ دینے پر اقربا پروری کا سوال

اقرار الحسن نے کہا کہ اگر ایک شخص کو 50 لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں تو دیگر متاثرہ کارکنوں کے لیے بھی یکساں معیار ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس معاملے کو دوستی اور اقربا پروری سے جوڑا۔

علی محمد خان کے ساتھ سلوک  

علی محمد خان کے معاملے پر اقرار الحسن نے کہا کہ انہیں ان کے ساتھ پیش آنے والا منظر تکلیف دہ لگا۔ ان کے مطابق علی محمد خان نے پارٹی قیادت کے خلاف کھل کر تنقید نہیں کی اور طویل عرصے سے پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔

پی ٹی آئی پر ’’اپنے بچے کھانے‘‘ کا الزام

اقرار الحسن نے پی ٹی آئی کی داخلی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت بعض اوقات اپنے ہی وفادار لوگوں کو نشانہ بناتی دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے علی محمد خان کو اسی رویے کی مثال قرار دیا۔

پی ٹی آئی بھی موروثی سیاست سے ذہنی طور پر باہر نہیں نکلی

انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کے صاحبزادے مستقبل میں سیاست میں آتے ہیں تو ان کے خیال میں پارٹی کے بہت سے کارکن اسی طرح ان کے پیچھے نعرے لگاتے نظر آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوگا کہ جماعت کے اندر بھی موروثی سیاست کے خلاف ذہنی تبدیلی مکمل نہیں ہوئی۔

 جمائما خان کو زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل 

جمائما خان کی شادی پر اقرار الحسن نے کہا کہ یہ ان کا حق ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے کریں۔ انہوں نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس موقع پر خوشی اور دعاؤں کے ساتھ یاد کیا جانا چاہیے۔

عمران خان کے بچوں کی پرورش کو سراہا

اقرار الحسن نے کہا کہ جمائما خان نے عمران خان کے بچوں کی پرورش میں اہم کردار ادا کیا اور انہیں ان کی تربیت کے حوالے سے مثبت تاثر ملا۔

طلاق کے بعد پوری زندگی سابق شوہر کے نام کرنا ضروری نہیں

انہوں نے کہا کہ علیحدگی کے بعد کسی خاتون کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اپنی پوری زندگی سابق شوہر کے نام وقف کر دے۔ ان کے مطابق جمائما خان نے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عمران خان کے مذہبی بیانیے پر  تنقید

 اقرار الحسن نے عمران خان کے مذہبی اندازِ اظہار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں عمران خان نے سیاسی طور پر مذہبی طرزِ اظہار اختیار کیا اور عوام کو اس کے ذریعے متاثر کیا۔

عمران خان کے ماضی اور موجودہ سیاسی بیانیے میں تضاد 

انہوں نے عمران خان کے مغربی طرزِ زندگی اور ماضی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں عمران خان خود اسی معاشرے میں پلے بڑھے اور بعد میں سیاسی حکمرانی کے لیے مذہبی طرزِ بیان اپنایا۔

جماعت اسلامی، کسان اتحاد اور پی ٹی آئی کی سرگرمیوں پر نظر

27 ستمبر کے حوالے سے اقرار الحسن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ٹرین مارچ، کسان اتحاد کی سرگرمیوں اور پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں کی تاریخیں ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں، جس سے اسلام آباد میں بیک وقت سیاسی سرگرمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

تینوں قوتیں اکٹھی ہوئیں تو سیاسی صورتِ حال دلچسپ ہوگی

انہوں نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی، کسان اتحاد اور پی ٹی آئی کسی نہ کسی انداز میں اسلام آباد میں ایک وقت پر جمع ہو جاتے ہیں تو صورتِ حال دلچسپ ہو سکتی ہے۔

’’کچھ نہیں ہوگا، تماشا لگے گا‘‘

ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے نتیجے کے بارے میں اقرار الحسن نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں فی الحال کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوگی، البتہ چند روز تک خبریں، وی لاگز اور یوٹیوبرز کی سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں۔

 سرکاری وسائل کے استعمال پر اقرار الحسن نے مختلف ممالک کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری گاڑی کو ذاتی کام کے لیے استعمال کرنے پر بھی کئی جگہوں پر جواب طلبی ہوتی ہے، اس لیے سرکاری وسائل کے نجی استعمال کا اصولی سوال اہم ہے۔

2 کروڑ 71 لاکھ روپے کہاں سے آئے؟

انہوں نے ایک خاتون حکومتی عہدیدار کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2 کروڑ 71 لاکھ روپے کے اخراجات کے ذرائع واضح ہونے چاہئیں۔ انہوں نے مالی گوشواروں میں ظاہر کیے گئے اثاثوں اور نقد رقم کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت طلب کی کہ اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی۔

سرکاری یا نجی خرچ؟ رقم کے ذریعے کا جواب ضروری قرار

اقرار الحسن نے کہا کہ اگر یہ رقم کسی اور نے فراہم کی تو یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ کس نے دی اور اس کے بدلے میں کیا فائدہ حاصل کیا۔ ان کے مطابق اتنی بڑی رقم کے معاملے پر سوال اٹھنا چاہیے۔

عوام کی غربت کے مقابلے میں کروڑوں کے اخراجات پر سوال

انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ان کے بقول لوگ بچوں کی تعلیم، گھر کے کرائے اور بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، کروڑوں روپے کے اخراجات کی وضاحت ضروری ہے۔

editor

Related Articles