اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حالیہ جلسے کے منتظمین کے خلاف تین مقدمات درج کر لئے۔ ان مقدمات میں جلسے کے وقت کی پابندی نہ کرنے، پولیس پر پتھراؤ، اور روٹ کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق پہلا مقدمہ تھانہ سنگجانی میں پی ٹی آئی جلسے کے معینہ وقت کی پاس داری نہ کرنے پر درج کیا گیا۔ دوسرا مقدمہ تھانہ سمبل میں جلسے کے قافلے کے سادات کالونی اور سری نگر ہائی وے سے گزرنے پر درج کیا گیا جبکہ تیسرا مقدمہ تھانہ نون میں پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کرنے کے الزام میں درج کیا گیا۔
مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کیلئے خطرہ بڑھ گیا ،علی امین گنڈا پور کے دن گنے جا چکے ہیں، فیصل واوڈا
پولیس ذرائع کے مطابق وفاقی پولیس نے استغاثہ تیار کر لیا ہے اور مقدمات میں زرتاج گل، عامر مغل، شعیب شاہین، عمر ایوب، سیمابیہ طاہر، اور راجہ بشاورت سمیت 28 مقامی رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے روٹ کی خلاف ورزی پر پولیس کو روکا گیا، جس کے نتیجے میں کارکنوں نے پتھروں اور ڈنڈوں سے پولیس پر حملہ کیا۔ پولیس نے جواباً شیلنگ کی اور موقع سے 17 کارکنوں کو گرفتار بھی کیا۔
یہ پیشرفت ہفتے کے روز صدر مملکت آصف علی زرداری کے پرامن احتجاج اور امنِ عامہ سے متعلق 2024ء کے ایکٹ کے منظور ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس ایکٹ کے تحت اسلام آباد میں بلا اجازت جلسے پر تین سال قید اور دوسری بار غیر قانونی جلسے پر دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ مزید برآں حکومت اسلام آباد میں کسی بھی سیاسی پارٹی کو جلسے کے لیے مخصوص علاقوں کا تعین کرے گی اور پولیس افسر اجازت کے باوجود کسی بھی وقت جلسہ ختم کرانے کا اختیار رکھے گا۔

