پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں کے سربراہ کہتے ہیں ہم قائدہ قانون کی پیروی کرتے ہیں میں ان سے تحقیقات کا کہتا ہوں پارلیمنٹ پر حملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ بطور اپوزیشن لیڈر جلسے کے بعد میں آج پہلے دن سیشن میں آ رہا ہوں، میرے خلاف تین ایف آئی آر ہیں اور میں نے کل ٹرانزٹ اور حفاظتی ضمانت پشاور ہائی کورٹ سے کروائی ہے، عمر ایوب نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ ستم ظریفی نہیں ہے کہ لیڈر آف اپوزیشن پربھی ایف آئی آر درج کی ہوئی ہیں، انہوں نے کہا کہ پہلے جو ایف آئی آر کی درخواست دی گئی تھی اس پر ملک امتیاز کا نام لکھا تھا، انکا کہنا تھا کہ ملک امتیاز ایک سال پہلے پی ٹی آئی چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے تھے اور چھ ماہ پہلے وہ انتقال کر گئے تھے۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر کا نان فائلر اور غلط گوشوارے جمع کروانے والوں کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے پارلیمنٹ ہاؤس میں جو ایکشن ہوا وہ سب کچھ اسپیکر قومی اسمبلی کے علم میں تھا اور قانون کے مطابق سب کچھ کیا گیا، اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد اور اسپیکر قومی اسمبلی کے کردار نے ایوان کے تقدس کو پامال کیاہے اور اس حوالے سے مکمل تحقیقات یقینی بنایا جانا چاہیئے۔

