قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین کی تقرری کا حوالے سے چیف وہپ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی غیر سنجیدگی کے سبب حکمران جماعت نے چیئرمین پی اے سی کے لئے عبوری چیئرمین مقرر کرنے کا فیصل کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین کی تقرری کا حوالے سے اپوزیشن کی جانب سے غیر سنجیدگی کے سبب چیف وہپ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکمران جماعت نے چیئرمین پی اے سی کے لئے عبوری چیئرمین مقرر کرنے کا فیصل کیا ہے جو حکمران جماعت سے ہی ہوگا۔
چیف وہپ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بہترین عوامی مفاد میں یہ عہدہ زیادہ دیر تک خالی نہیں رکھا جا سکتا اورپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے لئے الیکشن اگلے ایک یا دو دن میں ہوجائے گا انہوں نے کہا اپوزیشن کو چیئرمین پی اے سی کے لئے دو خطوط لکھے ہیں اور خطوط میں واضح کہا گیا ہے کہ اپوزیشن 4 ممبران پر مشتمل پینل بھجوائے لیکن اپوزیشن نے ابھی تک ان دونوں خطوط کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کی جانب سے مجوزہ آئینی ترمیمی مسودہ مسترد کردیا
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کا آئندہ ایک سے دو دن میں الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا ہے اورکسی حکومتی ممبر کو چئیرمین پی اے سی منتخب کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ حکومتی چیئرمین ایک عارضی بندوبست کے لئے منتخب کیا جائے گا۔ چیف وہپ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہےکہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین شپ اپوزیشن کی امانت ہے اور جب بھی اپوزیشن 4 ناموں پر مشتمل پینل بھجوائے گی منتخب شدہ چیئرمین مستعفی ہوجائے گا۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ نئے الیکشن کے ذریعے اپوزیشن کا چیئرمین منتخب کروایا جائے گا۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہےکہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی اہمیت کی وجہ سے اسکے اجلاس کو اور الیکشن کو غیر معینہ مدت تک ملتوی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن زرائع کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف کی جانب سے شیخ وقاص اکرم کا نام چیئرمین پی اے سی کے لیے مقرر کیا گیا لیکن حکمران جماعت اور پی ٹی آئی کے مابین اس حوالے سے ابھی تک ڈیڈ لاک ہے اور وہ چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی کسی اور کا نام تجویز کر دے۔

