ملک میں رواں سال سونے کی فی تولہ قیمت میں 50 ہزار روپے سے زائد کا اضافہ ہوگیا۔
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ دسمبر 2023 میں فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 20 ہزار روپے تھی، جو دسمبر 2024 تک بڑھ کر 2 لاکھ 73 ہزار 200 روپے ہو گئی ہے۔
سونے کی مقامی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں ملک کی اقتصادی صورتحال، زرمبادلہ کے بحران، اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رحجان اور معیشت میں غیریقینی کیفیت شامل ہیں۔ یہ عوامل سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا باعث بنے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دو سال کے دوران سونے کی فی تولہ قیمت میں مجموعی طور پر 78 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ 2023 میں بھی سونے کی قیمت 35 ہزار 900 روپے بڑھ گئی تھی، جو پاکستان کے عوام پر معاشی دباؤ کا ایک اور اشارہ ہے۔
عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں کے حوالے سے ورلڈ گولڈ کونسل نے اپنی 2024 کی رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ امریکی معیشت میں سست روی یاسافٹ لینڈنگ کا امکان ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق اس صورت میں سونے کی مانگ میں مزید اضافہ ہو گا اور قیمتیں بھی اُوپر جائیں گی۔ پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں ہونے والے مسلسل اضافے نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے اور یہ صورت حال معیشت کے لیے ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔