نوبل کمیٹی کی عمران خان کی نوبل انعام کیلئے نامزدگی کی خبروں پر وضاحت آ گئی۔
نوبل کمیٹی نے سینٹر پارٹی کے رہنما گیر لپسٹڈ کی جانب سے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو نوبل امن انعام کے لیے ممکنہ طور پر نامزد کرنے کے وعدے پر تنقید کی ہے۔ نوبل انسٹی ٹیوٹ نے اس بات پر اعتراض کیا کہ اس طرح کی نامزدگی کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو کہ غیر مناسب ہے۔
نوبل کمیٹی نے اس خبر کو جعلی قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کی ہے کہ عمران خان کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا جا رہا ہے۔ نوبل انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ ایسی کوئی نامزدگی نہیں کی گئی ہے اور اس سلسلے میں کوئی باضابطہ کارروائی نہیں ہوئی۔
گیر لپسٹڈ کی جانب سے نوبل انعام کے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد پاکستان میں جاری سیاسی صورتحال کو اجاگر کرنا ہے، خاص طور پر عمران خان کے خلاف جاری مقدمات اور ان کی جیل کی سزا پر عالمی توجہ مرکوز کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام کسی انتخابی مہم کا حصہ نہیں ہے، بلکہ پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں آگاہی پھیلانے کی کوشش ہے۔
نوبل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کرسٹیان برگ ہارپوکن نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی سیاستدان نے نوبل امن انعام کی نامزدگی کو انتخابی مہم کا حصہ بنایا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے نوبل انعام کی سالمیت متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ لوگوں میں یہ غلط تاثر پیدا کر سکتا ہے کہ ناروے کے سیاستدان نوبل کمیٹی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
نوبل انسٹی ٹیوٹ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ عمران خان کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے، کیونکہ نوبل انعام کی نامزدگی کی تفصیلات 50 سال تک خفیہ رکھی جاتی ہیں۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ اس سال کی نامزدگیوں کی آخری تاریخ 31 جنوری تھی، اس لیے عمران خان کو اس سال کے امن انعام کے لیے نامزد نہیں کیا جا سکتا۔
اس بحث نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، اور نوبل انسٹی ٹیوٹ کو مختلف ردعمل موصول ہو رہے ہیں۔ بہت سے افراد اس نامزدگی کو نوبل امن انعام کے غلط استعمال کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس معاملے نے نوبل انعام کے انتخابی عمل اور اس کے اصولوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں، کیونکہ یہ واضح ہے کہ نوبل انعام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اس کی سالمیت کو متاثر کر سکتا ہے۔