جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو مستقل امن کے لیے مذاکرات کی پیشکش

جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو مستقل امن کے لیے مذاکرات کی پیشکش

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ جاری کشیدگی کو مستقل طور پر ختم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ امن قائم کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کردی۔

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شمالی کوریا کو 1953 کی جنگ بندی کو باضابطہ امن معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو دھمکانے کے ارادے ترک کرکے مستقل امن کی جانب بڑھنا چاہیے۔

صدر لی جے میونگ نے یہ بات جزیرہ نما کوریا کی جاپانی تسلط سے آزادی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کوریا دوسری جنگِ عظیم میں جاپان کی شکست کے بعد 15 اگست 1945 کو جاپانی تسلط سے آزاد ہوا تھا، جس کی یاد میں ہر سال 15 اگست کو دونوں کوریائی ریاستوں میں یومِ آزادی منایا جاتا ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق جنگ امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی کے ذریعے ختم ہوئی تھی اور آج تک دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ امن معاہدہ نہیں ہوسکا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کو جلد امریکہ کا حصہ قرار دینے کی دھمکی

لی جے میونگ نے کہا کہ مجوزہ مذاکرات میں شمالی کوریا کی جوہری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے ممکنہ اقدامات کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا کشیدگی کم کرنے کے لیے پیشگی اور مستقل اقدامات کرے گا، جبکہ تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے مختلف سطحوں پر حفاظتی انتظامات بھی قائم کیے جائیں گے۔

صدر لی کی تازہ پیشکش گزشتہ سال کیے گئے اس عزم کی توسیع ہے جس میں انہوں نے شمالی کوریا کے نظام کا احترام اور پیانگ یانگ کے ساتھ پرامن تعلقات کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

تین سال جاری رہنے والی خونریز جنگ

کوریا کی آزادی کے بعد ہی دونوں کوریائی ریاستوں کے درمیان جغرافیائی تقسیم اور نظریاتی اختلافات نے کشیدگی کو جنم دیا۔ 25 جون 1950 کو شمالی کوریا کی افواج نے جنوبی کوریا پر حملہ کیا، جس کے بعد کوریائی جنگ شروع ہوگئی۔

یہ تنازع جلد ہی ایک بڑی بین الاقوامی جنگ میں تبدیل ہوگیا۔ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے جنوبی کوریا جبکہ کمیونسٹ چین اور سوویت یونین نے شمالی کوریا کی حمایت کی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق، ترک میڈیا

تقریباً تین سال تک جاری رہنے والی اس خونریز جنگ میں 30 لاکھ سے زائد فوجی اور عام شہری ہلاک ہوئے۔

بالآخر 27 جولائی 1953 کو جنگ بندی کے معاہدے کے تحت لڑائی روک دی گئی اور دونوں جانب کی افواج مقررہ سرحد کے قریب واپس چلی گئیں۔ تاہم مستقل امن معاہدے پر دستخط نہ ہونے کے باعث دونوں ممالک آج بھی تکنیکی اور قانونی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔

شمالی کوریا کا مذاکرات سے انکار

دوسری جانب شمالی کوریا اس سے قبل بھی صدر لی جے میونگ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش مسترد کرچکا ہے۔ پیانگ یانگ جنوبی کوریا اور امریکا کی مشترکہ فوجی مشقوں کو اشتعال انگیزی قرار دیتا ہے اور جنوبی کوریا کو اپنا بڑا دشمن قرار دیتا رہا ہے۔

جنوبی کوریا کی حالیہ پیشکش کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور 1953 کی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوشش ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

Related Articles