سعودی عرب کی نئی ایئر لائن ریاض ایئر نے پاکستان کیلئے فضائی آپریشنز کا باقاعدہ آغاز کردیا

سعودی عرب کی نئی ایئر لائن ریاض ایئر نے پاکستان کیلئے فضائی آپریشنز کا باقاعدہ آغاز کردیا

سعودی عرب کی نئی ایئر لائن ریاض ایئر نے پاکستان میں اپنے فضائی آپریشنز کا باضابطہ آغاز کردیا، جس کے تحت پہلی پرواز ریاض سے اسلام آباد پہنچ گئی۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق ریاض ایئر کی افتتاحی پرواز آر ایکس 660 69 مسافروں کو لے کر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچی۔ نئی ایئر لائن کی آمد پر طیارے کو روایتی واٹر سیلوٹ پیش کیا گیا، جبکہ افتتاحی پرواز کے موقع پر ایئرپورٹ پر خصوصی تقریب بھی منعقد ہوئی۔

تقریب میں پاکستان اور سعودی عرب کے حکام سمیت متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی بھی تقریب میں موجود تھے۔

ریاض اور اسلام آباد کے درمیان ہفتہ وار 7 پروازیں

حکام کے مطابق ریاض ایئر پاکستان میں آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں ریاض اور اسلام آباد کے درمیان ہفتہ وار 7 پروازیں چلائے گی، جس سے دونوں دارالحکومتوں کے درمیان فضائی رابطے میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: فضائی شعبے میں بڑی پیش رفت، بند ائیرپورٹس دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

افتتاحی پرواز اسلام آباد پہنچنے کے بعد 272 مسافروں کو لے کر دوبارہ ریاض کے لیے روانہ ہوگئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ذیشان سعید نے ریاض ایئر کی پاکستان آمد کو دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطوں کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ نئی ایئر لائن کے فضائی آپریشنز شروع ہونے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو مزید سہولت میسر آئے گی۔ ان کے مطابق ریاض ایئر کی پاکستان آمد دونوں ممالک کے درمیان فضائی تعاون میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

کاروباری اور عوامی روابط میں اضافے کی امید

ذیشان سعید نے امید ظاہر کی کہ نئی فضائی سروس سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کاروباری، سیاحتی اور عوامی روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

حکام کے مطابق ریاض ایئر کی جانب سے اسلام آباد کے لیے ہفتہ وار سات پروازوں کا آغاز دونوں ممالک کے مضبوط سفارتی اور معاشی تعلقات کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔

نئی فضائی سروس سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں اور پاکستان سے سعودی عرب سفر کرنے والے مسافروں کے لیے فضائی سفری سہولیات اور دستیاب آپشنز میں اضافہ ہوگا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی اور تجارتی روابط کو مزید وسعت ملنے کی توقع ہے۔

Related Articles