رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ مشال یوسفزئی کے حوالے سے غصے کی وجہ ان کا بشریٰ بی بی سے تعلق ہے، جبکہ انہیں سینیٹ کا ٹکٹ نہ دینے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم بانی پی ٹی آئی نے مشال یوسفزئی کو ٹکٹ دینے کی ہدایت کی تھی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میرے سوال میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ اور جنید اکبر کا مؤقف تھا کہ مشال یوسفزئی تنقید کرتی ہیں،مشال یوسفزئی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اور بتایا کہ سلمان اکرم راجہ نے بانی پی ٹی آئی کے سامنے ان سے معافی مانگی تھی،شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے درمیان اختلافات آج کے نہیں بلکہ کافی عرصے سے چلے آرہے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں تین گروپ
پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات پر بات کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پارٹی کے تین گروپ بن چکے ہیںایک گروپ سہیل آفریدی کا، دوسرا 40 سے 45 ارکان صوبائی اسمبلی پر مشتمل ہے جبکہ تیسرا گروپ علی امین گنڈاپور کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مارچ کے معاملے پر سہیل آفریدی تنہا ہوں گے، اس لیے اختلافات ختم کرنے کے بعد مارچ کا اعلان کیا جانا چاہیےان کے بقول پارٹی کے اندر اختلافات اب دشمنیوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔
شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ علی امین گنڈاپور نے پارٹی کو 72 کروڑ روپے دیے، یہ رقم کہاں خرچ ہوئی اس کا جواب پارٹی کے سیکر ٹری جنرل کو دینا چاہیے،انہوں نے سوال اٹھایا کہ نومبر کے متاثرین اور ضمانتوں کے لیے جمع ہونے والی رقم کہاں گئی؟
فیض حمید سے متعلق دعویٰ
شیر افضل مروت نے کہا کہ شہباز گل کو بانی پی ٹی آئی سے متعارف فیض حمید نے کرایا تھا،ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں فیض حمید نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی تھی، جس پر ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو گرفتار کیا گیا تھا۔
وکلا سے متعلق مؤقف
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ تمام وکلا علیمہ خان گروپ کے ہیں، جبکہ بیرسٹر گوہر بانی پی ٹی آئی کے وکیل نہیں ہیں ،سلمان اکرم راجہ اور سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکلا ہیں،شیر افضل مروت نے سلمان صفدر کے بارے میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے تین سال کے دوران بے پناہ پیسے لیے ہیں۔
27 ستمبر کے مارچ پر سوال
شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کا مارچ نہیں ہوگا کیونکہ اس کی کوئی تیاری نہیں کی گئی ،تحریک انصاف میں اس وقت نہ نظم و ضبط ہے اور نہ اتفاق۔
انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کے مارچ پر علیمہ خان نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے، پارٹی میں سب کو غدار قرار دیا گیا ہے اور سوال یہ ہے کہ غدار قرار دیے گئے لوگوں کے ساتھ کون سی قوم نکلے گی؟
سہیل آفریدی اور محسن نقوی کی ملاقات
شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ 4 اگست کو سہیل آفریدی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات ہوئی تھی،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو مارچ سے قبل اپنے اندرونی اختلافات ختم کرنے اور پارٹی میں نظم و ضبط پیدا کرنے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر احتجاجی سرگرمیوں میں مطلوبہ حمایت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔