سعودی حکام کی عمرہ زائرین کے لیے اہم ہدایات

سعودی حکام کی عمرہ زائرین کے لیے اہم ہدایات

سعودی حکام نے عمرہ زائرین کے لیے مسجد الحرام میں رش سے بچنے اور عبادات و مناسک کی ادائیگی کو مزید آسان بنانے کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کردی ہیں۔ زائرین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ مسجد الحرام جانے سے قبل رش کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اوقات طے کریں۔

سعودی جنرل اتھارٹی کے مطابق مسجد الحرام میں مختلف اوقات کے دوران رش کی شدت تبدیل ہوتی رہتی ہے، اس لیے زائرین پہلے سے منصوبہ بندی کریں تاکہ مطاف اور مسعی میں آمدورفت آسان رہے۔

مسجد الحرام میں کم رش کے اوقات

حکام کے مطابق مسجد الحرام میں رات 10 بجے سے صبح 4 بجے تک اور صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک رش نسبتاً کم رہتا ہے۔ ان اوقات میں زائرین طواف، سعی اور دیگر عبادات زیادہ سہولت کے ساتھ ادا کرسکتے ہیں۔

سعودی حکام کے مطابق صبح 5 بجے سے 8 بجے تک رش درمیانے درجے کا رہتا ہے، جبکہ شام 5 بجے سے رات 9 بجے تک مسجد الحرام میں سب سے زیادہ رش دیکھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حج 2027 ،درخواستوں اور ادائیگی کے حوالے سے بڑا فیصلہ،عازمین حج کیلئے اہم خبر

زائرین کو ہدایت کی گئی ہے کہ ممکنہ حد تک زیادہ رش والے اوقات میں مسجد الحرام جانے سے گریز کریں، خصوصاً جب کم رش والے اوقات میں عبادات کی ادائیگی ممکن ہو۔

ڈیجیٹل سہولیات سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ

سعودی حکام نے عمرہ زائرین کو مسجد الحرام میں دستیاب ڈیجیٹل سہولیات اور براہ راست رش کی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

حکام کے مطابق عبادات کے لیے مناسب وقت کا انتخاب کرنے سے نہ صرف ہجوم کم کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ مطاف اور مسعی میں آمدورفت بھی نسبتاً آسان ہوجاتی ہے، جس سے زائرین زیادہ سہولت کے ساتھ اپنے مناسک ادا کرسکتے ہیں۔

عمرہ زائرین کی تعداد میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق موجودہ عمرہ سیزن کے ابتدائی ڈیڑھ ماہ کے دوران 9 لاکھ 20 ہزار 500 عمرہ زائرین سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمرہ زائرین کے لیے نئی پالیسی متعارف ،یکم ربیع الاول سے نافذ ہوگی

اس سے قبل جاری کیے گئے اعدادوشمار میں عمرہ ویزے پر سعودی عرب آنے والے افراد کی تعداد میں 22.5 فیصد اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔

زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سعودی حکام نے پیشگی منصوبہ بندی پر زور دیا ہے تاکہ مسجد الحرام میں عبادات کے دوران رش کو بہتر انداز میں منظم کیا جاسکے اور زائرین کو طواف، سعی اور دیگر مناسک کی ادائیگی میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جاسکے۔

Related Articles