افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف شہریوں کی جانب سے غصے اور ناراضی پر مبنی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کر رہی ہیں، جن میں شہری طالبان حکومت کی پالیسیوں، کرپشن، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات پر شدید تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کے پانچ سال مکمل ہونے کے موقع پر افغانستان میں جہاں طالبان کی جانب سے جشن منایا گیا، وہیں بعض افغان شہریوں نے سوشل میڈیا کو اپنے غصے اور شکایات کے اظہار کا ذریعہ بنا لیا۔
طالبان نے ملک گندا کردیا
قندھار سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں ایک افغان شہری طالبان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتا ہے کہ طالبان نے پورے ملک کو تباہ اور گندا کردیا ہے،شہری کا کہنا ہے کہ اکیلے اکیلے لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں، بلکہ طالبان کے خلاف سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہوگا، ویڈیو میں شہری نے افغانستان کے عوام سے بھی طالبان کے خلاف مزاحمت کی اپیل کی۔
ایک اور افغان شہری نے افغانستان میں بھوک، افلاس اور بے روزگاری کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، شہری کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکمرانی میں عام لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں اور معاشی حالات نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔
ویڈیو پیغام میں افغان شہری نے طالبان حکومت کو افغانستان کے مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اپیل
ایک افغان شہری نے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی مدد کی اپیل کی شہری نے کہا کہ اللہ کے بعد آپ ہماری امید کا مرکز ہیں اور مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت کے خاتمے میں کردار ادا کیا جائے،شہری نے کہا کہ طالبان نے افغانستان کو تباہ کردیا ہے اور بچوں سمیت عام شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
افغانستان 50 سال پیچھے چلا گیا
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک افغان شہری نےکہا کہ طالبان کے پانچ سالہ دور حکومت میں افغانستان ترقی کے بجائے کئی دہائیاں پیچھے چلا گیا ہے،شہری نے کہا کہ طالبان پر بھارت اور اسرائیل کے غلام ہیں ہماری ان ظالموں سے جان چھڑائی جائے انہوں نے ہمارا ملک تباہ برباد کردیا ہے ۔
قندھار اور جلال آباد سے ویڈیو میں افغان شہری طالبان کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کی بات بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
طالبان حکومت کے خلاف غصہ
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے کے موقع پر سامنے آنے والے ان ویڈیو پیغامات نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے،سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے شہریوں کے بیانات سے افغانستان میں موجود مختلف طبقات کی ناراضی اور شکایات کے اظہار کے ساتھ ان کے مظالم بھی واضح ہوگئے ہیں ۔