ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا اور بیرونی حملے کی صورت میں تمام رکن ممالک متفقہ اور مشترکہ اقدامات کریں گے۔
اپنے ایک انٹرویو میں اردوان نے کہا کہ مکہ معاہدہ مزید ممالک کی شمولیت کے لیے بھی کھلا ہے اور مصر کی اس معاہدے میں شرکت ممکن ہے،ترک صدر نے کہا کہ معاہدے میں دیگر ممالک کے شامل ہونے کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق مصر بھی مستقبل میں اس دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے،مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو طے کیا تھا، جس میں ایک رکن پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔
اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ ترکیہ کے دوران لبنان سے متعلق ہونے والی گفتگو کا بھی ذکر کیا،انہوں نے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی جنگ روکنے کے لیے امریکا کا کردار اہم ہے، جبکہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا تشویش کا باعث ہے۔
شام کا استحکام
ترک صدر نے شام کی صورتحال پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ شام کے استحکام کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائے گا،ایردوان کے مطابق خطے میں امن و استحکام کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔