بھارت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما کی جانب سے تاج محل کے باہر ہوائی فائرنگ بی جے پی کی غنڈہ گردی کی عکاسی ہے ۔
یہ واقعہ نہ صرف بی جے پی کی بڑھتی ہوئی غنڈہ گردی کا عکاس ہے بلکہ مودی حکومت کی اس انتہا پسندی کو بھی بے نقاب کرتا ہے جسے وہ برسوں سے سیاسی طاقت کی آڑ میں پروان چڑھا رہی ہے۔
آگرہ میں بی جے پی رہنما پنکج کمار سنگھ اپنی آرٹیگا کار میں تاج محل کے مغربی دروازے پر پہنچا، خود کو “بھارتی حکومت کا افسر” ظاہر کر کے اس نے گاڑی اندر لے جانے کی کوشش کی۔
جب سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے روکا تو اس نے ریوالور نکال کر تین ہوائی فائر کیے اور موقع سے فرار ہو گیا۔ فائرنگ کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
اس واقعے نے واضح کر دیا ہے کہ مودی حکومت کی سرپرستی میں بی جے پی رہنما خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں،ایک ایسا ملک جہاں اقلیتوں پر ظلم، صحافیوں کی زبان بندی ور عوامی احتجاج پر تشدد معمول بن چکا ہو، وہاں بی جے پی کارکنوں کا کھلے عام اسلحہ لہرانا اور فائرنگ کرنا کون سی حیرانی کی بات ہے؟
یہ ہے مودی کا بھارت جہاں بی جے پی رہنما جب چاہیں بندوق چلا دیں اور قانون ان کے سامنے خاموش تماشائی بنا رہے؟ جب حکومتی جماعت کے لوگ ہی سیاحتی اور عالمی اہمیت کے مقامات پر فائرنگ کریں گے، تو بیرونی دنیا بھارت کو کس نظر سے دیکھے گی؟
اس واقعہ کودیکھتے ہوئے یا بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پہلگام واقعہ بھی مودی کی سرپرستی میں ہوا جہاں سیاحوں کو ہلاک کیا گیا اب یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بی جے پی دہشتگردی کررہے اور بھارت مکمل طور پر دہشتگرد ریاست کے طورپر سامنے آچکا ہے ۔