پاکستانی حکام نے بیرون ملک موجود پاکستانیوں کے اثاثوں کی ایک بڑی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے، جس میں اب تک 57 ممالک میں 58 ہزار پاکستانیوں کے 8 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے غیر ملکی اثاثے سامنے آئے ہیں۔ یہ پیش رفت OECD (آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ) کے خودکار معلوماتی تبادلے کے تحت حاصل کیے گئے بینک اور مالیاتی ڈیٹا کے جائزے کے بعد سامنے آئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، ابتدائی تجزیے میں چھپن ایسے سیاستدانوں کی شناخت کی گئی ہے جن کے بیرون ملک جائیدادیں اور مالیاتی اثاثے ہیں۔ ان میں: سیاستدان، سرکاری افسران اور دوہری شہریت والے 24 موجودہ یا سابق اراکین پارلیمنٹ اور 8 موجودہ اراکین پارلیمنٹ شامل ہیں۔
یہ تحقیقات ٹیکس چوری، اثاثہ جات کی مخفی ملکیت، اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات کے ممکنہ امکانات کی روشنی میں کی جا رہی ہیں۔
450 ٹیکس چوری کے مقدمات زیر تیاری فی الحال 450 ٹیکس چوری کے کیسز تیاری کے مرحلے میں ہ یں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات حتمی شواہد، قانونی جانچ اور تصدیق کے بعد ہی دائر کیے جائیں گے۔ ابھی کسی فرد یا ادارے کے نام کو سرکاری طور پر منظر عام پر نہیں لایا گیا۔
سرکاری افسران کی دوہری شہریت اور اثاثے تحقیقات میں کئی سرکاری افسران بھی زیرِ نظر آ چکے ہیں: تقریباً 750 سرکاری افسران نے ماضی میں دوہری شہریت حاصل کی۔ ایک علیحدہ رپورٹ کے مطابق، 2,570 حاضر سروس افسران کی بیویاں بھی غیر ملکی شہریت رکھتی ہیں۔
حکام ان تفصیلات کو اثاثوں اور ٹیکس گوشواروں سے ملا کر جانچ رہے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو بے نقاب کیا جا سکے۔
شہریت ترک کرنے کا رجحان رپورٹ کے مطابق، 2012 سے اب تک 37 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی شہریت ترک کر چکے ہیں، جو بیرون ملک مستقل سکونت، سرمایہ کاری، یا قانونی تحفظات جیسے اسباب کے باعث ممکن ہوا۔
ریکوری اور نفاذ کا پلانریگولیٹری اداروں کے مطابق: OECD ڈیٹا نے غیر اعلانیہ جائیدادوں، آمدنی اور سیکیورٹیز کی نشاندہی میں مدد فراہم کی ہے۔
ریکوری، جرمانے، اور کمپاؤنڈنگ جیسے اقدامات کو قانون کے مطابق عملی شکل دی جائے گی۔ حکام نے واضح کیا کہ تمام مقدمات میں قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور یکساں قانون کا نفاذ یقینی بنایا جائے گا، تاکہ نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔
نتیجہ: اگر ان بیرون ملک اثاثوں کا ایک معمولی حصہ بھی غیر قانونی یا ٹیکس چوری پر مبنی ثابت ہو جاتا ہے، تو ریاستی خزانے کو اربوں روپے کی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا انجام پاکستان کے ٹیکس نظام، گورننس، اور بین الاقوامی ساکھ پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔