نامور بھارتی لیجنڈری اداکار چل بسے

نامور بھارتی لیجنڈری اداکار چل بسے

نامور بھارتی اداکارگووردھن اسرانی ، جو فلمی دنیا میں اس‌رانی کے نام سے مشہور تھے، پیر کے روز ممبئی میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

ان کی عمر 83 برس تھی۔ فلمی دنیا میں اپنی مزاحیہ اداکاری اور منفرد مکالمہ ادائیگی کے باعث مقبول گووردھن اسرانی کے آخری رسومات سانتاکروز کریمیٹوریم میں ادا کی گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کو چار روز قبل ممبئی کے جوہو علاقے میں واقع بھارتیہ آروگیہ نِدھی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے پھیپھڑوں میں پانی بھر گیا تھا جس کے باعث ان کی حالت تشویشناک ہوگئی۔ پیر 20 اکتوبر کی سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کے قریبی معاون ببو بھائی نے بتایا کہ اداکار کی آخری رسومات مکمل کر لی گئی ہیں۔

رانی کی فنکارانہ زندگی پانچ دہائیوں پر محیط رہی اور اس دوران انہوں نے 350 سے زائد فلموں میں کام کیا۔ بطور مزاحیہ اور معاون اداکار، انہوں نے ہندی سینما کو کئی یادگار کردار دیے۔ 1970 کی دہائی ان کے فنی عروج کا زمانہ تھی، جب انہوں نے ’’ میرے اپنے، کوشش، باورچی، پریچے، ابھیمان، چپکے چپکے، چھوٹی سی بات، رفو چکر‘‘ اور 1975 میں ریلیز ہونے والی مشہور فلم ’’ شعلے‘‘ میں جیلر کے منفرد کردار کے ذریعے شہرت کی نئی بلندیوں کو چھوا۔ یہ کردار آج بھی فلمی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ مانا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کرکٹ بورڈ بھی بھارتی ڈگر پر چل نکلا،  پاکستان میں شیڈول سہ ملکی سیریز سے متعلق بڑا اعلان

اداکاری کے ساتھ ساتھ اس‌رانی نے ہدایت کاری میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ انہوں نے 1977 میں چلا مراری ہیرو بننے جیسی فلم لکھی، ہدایت کاری کی اور اس میں مرکزی کردار بھی نبھایا۔ بعد ازاں انہوں نے سلام میم صاحب (1979) سمیت کئی دیگر فلموں کی بھی ہدایت کاری کی۔

رانی نے گجراتی سینما میں بھی کام کیا اور 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں بطور مرکزی اداکار خاصی کامیابی حاصل کی۔ ان کا فلمی سفر ان کی ہمہ جہتی، مستقل مزاجی اور فن سے بے پناہ محبت کا عکاس ہے۔ ہندی سینما میں ان کی مزاحیہ اداکاری کا خلا طویل عرصے تک پُر نہیں ہوسکے گا۔

Related Articles