ضمنی انتخابات: 13 قومی و صوبائی حلقوں میں پولنگ جاری، اب تک ٹرن آؤٹ کیا رہا، کس کا پلڑا بھاری؟  

ضمنی انتخابات: 13 قومی و صوبائی حلقوں میں پولنگ جاری، اب تک ٹرن آؤٹ کیا رہا، کس کا پلڑا بھاری؟  

قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی 13 نشستوں پر ضمنی انتخابات کا عمل جاری ہے، تاہم کئی حلقوں میں پولنگ اسٹیشنز پر صبح کے اوقات میں ٹرن آؤٹ کم رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حلقہ این اے 18 ہری پور میں دلچسپ مناظر دیکھنے میں آئے جہاں تحریک انصاف کے کیمپس ویران پڑے رہے اور کارکنان چائے کے کپ تھامے ووٹرز کا انتظار کرتے رہے۔ کھلہ بٹ پولنگ اسٹیشن پر پی ٹی آئی کے خالی بوتھ اور کرسیاں انتخابی سرگرمی کی کمی کی واضح تصویر پیش کرتی رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا فیصلہ واپس لے لیا، حلقہ بندیاں بھی نہیں ہوں گی

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے برعکس ن لیگ کے امیدوار بابر نواز خان کے حق میں مختلف پولنگ اسٹیشنز پر خاصا جوش و خروش نظر آیا۔ عوامی تاثر کے مطابق بعض علاقوں میں ماحول ن لیگ کے لیے ’ریفرنڈم‘ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ ادھر پنجاب حکومت کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن پر پی ٹی آئی کے بوتھ ویران پڑے ہوئے ہیں۔ لوگ انتشار اور نفرت کی سیاست کو مسترد کر چکے ہیں، عوام اب تعمیر و ترقی کی سوچ کو ووٹ دیتے ہیں۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام اب خالی چکنی باتوں سے مرعوب ہو نہیں ہوں گے، وہ اچھا اور برا دونوں پہنچان چکے ہیں۔

بابر نواز کی میڈیا ٹاک، وزیراعلیٰ کے کردار پر اعتراضات

مسلم لیگ ن کے امیدوار بابر نواز خان نے این اے 18 کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘ٹرن آؤٹ صبح کم تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔’پولنگ مکمل طور پر پرامن ہے اور امید ہے کہ پرامن ہی اختتام پذیر ہوگی۔ ’امید کرتے ہیں کہ ٹرن آؤٹ 45 سے 50 فیصد تک جائے گا۔‘

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اپنے امیدوار کی کھل کر سرپرستی کر رہی ہے اور خود وزیراعلیٰ نے انتخابی مہم میں حصہ لیا، جو ان کے بقول مناسب عمل نہیں تھا۔ بابر نواز نے کہا کہ ایک ’اشتہاری شخص‘ کو مہم میں ساتھ رکھ کر جرم کا ارتکاب کیا گیا اور وزیراعلیٰ کو ایسے افراد کی سرپرستی زیب نہیں دیتی۔

مزید پڑھیں:پی پی 52 ضمنی الیکشن کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج، ن لیگی امیدوار کو واضح برتری حاصل

ان کا دعویٰ تھا کہ پی ٹی آئی کے جلسے میں تقریباً 2,200 افراد شریک تھے جبکہ ان کے آخری جلسے میں ’10 ہزار سے زیادہ افراد‘ موجود تھے۔ بابر نواز نے کہا کہ وہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے۔

دریں اثنا، صوبائی پارلیمانی لیڈر اکبر ایوب خان نے بھی شہرناز عمر ایوب کے حق میں اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا ہے۔

پولنگ اور سیکیورٹی انتظامات

ملک بھر میں صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ ضمنی انتخابات اس وقت ناگزیر ہوئے جب 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے کئی ارکان کو نااہل قرار دیا گیا اور نشستیں خالی ہو گئیں۔

قومی اسمبلی کی 6 نشستیں

این اے 18 (ہری پور)، این اے 96، 104، 129 (فیصل آباد، لاہور)، این اے 143 (ساہیوال)  اور این اے 185 (ڈیرہ غازی خان)

پنجاب اسمبلی کی 7 نشستیں

صوبہ پنجاب کے 7 حلقوں میں پی پی۔73، PP-87، پی پی۔98، پی پی۔115، پی پی۔116، پی پی۔203 اور پی پی۔ 269شامل ہیں جہاں ای سی پی کی ہدایات کے مطابق حساس ترین پولنگ اسٹیشنز کے باہر فوج تعینات ہے جبکہ دیگر مقامات پر پولیس، رینجرز اور فوری رسپانس فورس موجود ہیں۔ پنجاب میں 20 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار ڈیوٹی پر مامور ہیں جبکہ فیصل آباد میں 6,500 سے زیادہ اہلکار سیکیورٹی کی نگرانی کر رہے ہیں۔

پنجاب پولیس نے کہا ہے کہ وہ ’ہائی الرٹ‘ پر ہے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی اپنائی گئی ہے۔ پولنگ کا عمل سیف سٹی اتھارٹی اور مانیٹرنگ رومز کے ذریعے براہِ راست دیکھا جا رہا ہے۔

اہم انتخابی مقابلے

این اے 18 ہری پور میں سب سے دلچسپ مقابلہ ہو رہا ہے جہاں مسلم لیگ ن کے بابر نواز خان کا مقابلہ شہرنازعمرایوب جو سابق اپوزیشن لیڈرعمرایوب کی اہلیہ ہیں، کے درمیان ہو رہا ہے جہاں میڈیا رپورٹس میں بابر نواز خان کا پلڑا بھاری بتایا جاتا ہے

این اے 96 میں مسلم لیگ ن کے بلال بدر چودھری اوراین اے 104 میں مسلم لیگ ن کے دانیال احمد 3 آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔

مزید پڑھیں:الیکشن کمیشن ضمنی الیکشن میں ن لیگ کی انتخابی دھاندلیوں کا نوٹس لے، پیپلز پارٹی کا خط

این اے 129 لاہور میں چوہدری ارسلان (مرحوم میاں اظہر کے پوتے) کا مقابلہ ن لیگ کے حفیظ میاں محمد نعمان ہو رہا ہے، این اے 143 میں مسلم لیگ ن کے محمد طفیل جٹ کا مقابلہ زرار اکبر چودھری کے درمیان ہو رہا ہے، این اے 185 میں دوست محمد کھوسہ (پی پی پی) بمقابلہ محمود قادر خان لغاری ہو رہا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے مقابلے

ادھر پنجاب اسمبلی میں پی پی۔73 میاں سلطان علی رانجھا ن لیگ، پی پی۔87 علی حیدر نور خان مسلم لیگ ن پی پی۔98 میں آزاد علی تبسم مسلم لیگ ن، پی پی۔115 سے ن لیگ کے محمد طاہر پرویز، پی پی۔116 سے احمد شہریار، پی پی 203 سے محمد حنیف جٹ  اور پی پی۔269 سے پیپلز پارٹی کے میاں علمدار قریشی کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے۔

ملک بھر میں پولنگ کا عمل مجموعی طور پر پرامن اور منظم انداز میں جاری ہے، جبکہ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کم ٹرن آؤٹ اور جماعتوں کی اندرونی تقسیم انتخابی نتائج پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ غیر سرکاری نتائج شام 5 بجے پولنگ ختم ہوتے ہی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔

Related Articles