اسلام آباد میں پانچ روزہ پاک اقوامِ متحدہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر، موسمیاتی آفات کی پیشگی نشاندہی کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر زور

اسلام آباد میں پانچ روزہ پاک اقوامِ متحدہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر، موسمیاتی آفات کی پیشگی نشاندہی کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر زور

پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے زیرِ اہتمام پانچ روزہ پاک اقوامِ متحدہ بین الاقوامی کانفرنس اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں 22 ممالک کے مندوبین سمیت پاکستان بھر سے تقریباً 250 شرکاء نے شرکت کی، جبکہ موسمیاتی آفات کی پیشگی نشاندہی، قبل از وقت انتباہی نظام کی بہتری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جدید خلائی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر زور دیا گیا۔

’’سب کے لیے قبل از وقت انتباہ (EW4All)، موسمیاتی اقدامات اور آفات کے خطرات کے جائزے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی سے استفادہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں قومی و بین الاقوامی ماہرین، سائنس دانوں، پالیسی سازوں اور مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پانچ روزہ کانفرنس کے دوران موسمیاتی خطرات کی نگرانی، آفات سے نمٹنے کی پیشگی تیاری، بروقت ردعمل، موسمیاتی لچک اور پائیدار ترقی کے فروغ سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کانفرنس کی اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری ڈاکٹر مصدق ملک تھے، جبکہ چیئرمین سپارکو و صدر انٹر اسلامک نیٹ ورک آن اسپیس سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ISNET) محمد یوسف خان، اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے بیرونی خلائی امور (UNOOSA) کے ڈائریکٹر اسپیس ایپلی کیشنز لورانٹ سزاران، وفاقی و صوبائی حکام اور مختلف بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

کانفرنس میں وفاقی و صوبائی وزارتوں، جامعات اور متعلقہ قومی اداروں کے نمائندوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم UN-SPIDER، ایشیا پیسیفک اسپیس کوآپریشن آرگنائزیشن (APSCO)، انٹر اسلامک نیٹ ورک آن اسپیس سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ISNET)، قازقستان غارش سپاری اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے مندوبین بھی شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال، پاک اقوام متحدہ بین الاقوامی کانفرنس میں جدید تحقیق پیش

پانچ روزہ کانفرنس کے دوران مجموعی طور پر 17 سیشنز منعقد کیے گئے، جن میں 2 اعلیٰ سطحی مکمل اجلاس، 5 پینل مباحثے اور 10 تکنیکی سیشنز شامل تھے۔ ان سیشنز میں قومی و بین الاقوامی ماہرین نے 67 تحقیقی و تکنیکی مقالے اور پریزنٹیشنز پیش کیں، جبکہ ممتاز ماہرین کی جانب سے 10 کلیدی خطابات کیے گئے۔ اس کے علاوہ 32 پینلسٹس نے موسمیاتی معلومات، آفات کے خطرات میں کمی، سینڈائی فریم ورک، پیرس معاہدے اور قبل از وقت انتباہی نظام سمیت مختلف اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کو آفات کے بعد امدادی کارروائیوں اور ردعمل پر مبنی حکمتِ عملی سے آگے بڑھ کر پیشگی تیاری اور روک تھام کے مؤثر نظام کی جانب منتقل ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ تصاویر، ریڈار، ہائپراسپیکٹرل ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور جدید پیش گوئی کے ماڈلز کے ذریعے ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن ہے، جس سے بڑے سانحات اور انسانی و مالی نقصانات کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سائنسی معلومات کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب انہیں بروقت اور مؤثر فیصلوں میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے امراضِ قلب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح بروقت تشخیص اور علاج کسی مریض کو پیچیدہ آپریشن سے بچا سکتا ہے، اسی طرح آفات کی پیشگی نشاندہی اور درست سائنسی پیش گوئی بھی انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ’’ایسا انتباہ جس میں متاثرہ مقام کی نشاندہی نہ ہو، درحقیقت کسی کے لیے بھی انتباہ نہیں ہوتا۔‘‘  انہوں نے کہا کہ موسمیاتی آفات سے متعلق انتباہات کو محض وسیع جغرافیائی علاقوں کی پیش گوئیوں تک محدود رکھنے کے بجائے مخصوص مقامات، آبادیوں اور گھرانوں کی سطح تک مؤثر بنانا ضروری ہے، تاکہ خطرات سے دوچار افراد کو بروقت اور درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔

انہوں نے سیلابی میدانوں اور ان میں ہونے والی تجاوزات سے متعلق سالانہ سیٹلائٹ رپورٹس کی تیاری، خطرات سے دوچار علاقوں کی درست نقشہ سازی اور مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔ وفاقی وزیر نے سرحد پار تعاون، نوجوانوں کی تحقیقی و تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ، ہیکاتھونز اور جدید سائنسی منصوبوں میں مشترکہ اقدامات کی ضرورت اجاگر کی۔

ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد انسانیت کی خدمت اور کمزور طبقات کا تحفظ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آفات کے بعد امدادی کارروائیوں کو پہلا نہیں بلکہ آخری حل سمجھتے ہوئے ایسی ٹیکنالوجی اور نظام کو فروغ دینا ہوگا جو ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی کرکے نقصانات کو روکنے میں مدد دے سکیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان نے کہا کہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی حقیقی افادیت اس وقت سامنے آتی ہے جب خلا سے حاصل ہونے والی معلومات کو عملی فیصلوں اور مؤثر اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

انہوں نے کانفرنس کے دوران سامنے آنے والی تین بنیادی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سائنسی معلومات کو فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ بنانا، مختلف نظاموں میں باہمی مطابقت اور معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنانا اور ادارہ جاتی و انسانی وسائل کی صلاحیتوں کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنا ضروری ہے۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے بیرونی خلائی امور کے ڈائریکٹر اسپیس ایپلی کیشنز لورانٹ سزاران نے اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلیوں اور آفات سے متعلق عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، مشترکہ اقدامات اور علم و تجربات کے تبادلے سے مختلف ممالک کی آفات کے انتظام اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

کانفرنس میں شریک ماہرین نے سیٹلائٹ پر مبنی زمینی مشاہدے، جغرافیائی معلومات، جدید سائنسی ٹیکنالوجی اور متعدد خطرات سے متعلق قبل از وقت انتباہی نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ شرکاء کے مطابق خلائی معلومات کو قابلِ عمل معلومات میں تبدیل کرنے، ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافے اور کمزور و متاثرہ آبادیوں تک بروقت انتباہات پہنچانے کے لیے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط اقدامات ضروری ہیں۔

اختتامی تقریب کے دوران کانفرنس کی کارروائیوں، اہم نتائج اور سفارشات پر مشتمل جامع خلاصہ بھی پیش کیا گیا، جس میں مستقبل میں مشترکہ تعاون کے ممکنہ شعبوں کی نشاندہی کی گئی۔

اس موقع پر سپارکو کی جانب سے ’’ پاکستان اسپیس فار کلائمیٹ‘‘ (Pakistan Space4Climate) اقدام بھی پیش کیا گیا، جس کا مقصد موسمیاتی نگرانی، آفات کے خطرات کے جائزے اور قومی سطح پر موسمیاتی لچک کے فروغ کے لیے پاکستان کی خلائی صلاحیتوں اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے مؤثر استفادہ کرنا ہے۔

پانچ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ خلائی ٹیکنالوجی، سائنسی جدت اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے موسمیاتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور’’سب کے لیے قبل از وقت انتباہ‘‘ (Early Warnings for All) کے وژن کو عملی شکل دینے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

Related Articles