جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے منسوب مدرسہ معارفِ شریعہ میں بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیوں اور تجاوزات سے متعلق رپورٹنگ کے لیے جانے والے آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ صحافی نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ مدرسے کے طلباء نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی، موبائل فون چھیننے کی کوشش کی اور وہاں سے نکلتے وقت ان کے پیچھے کتے چھوڑ دیے۔
آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے کے مطابق وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے مدرسہ معارفِ شریعہ کو بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیوں پر نوٹس جاری کیا تھا۔ وہ اس نوٹس سے متعلق حقائق جاننے اور مدرسے کی انتظامیہ کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے وہاں پہنچے تھے۔
صحافی نے بتایا کہ مدرسے پہنچنے پر وہاں موجود طلباء نے ان سے بار بار پوچھا کہ وہ کس ادارے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق طلباء نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی، انہیں ہراساں کیا اور موبائل فون حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔
نمائندہ آزاد ڈیجیٹل نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ جب انہوں نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی تو ان کے پیچھے دو سے تین کتے چھوڑ دیے گئے، جس کے بعد انہیں اپنی حفاظت کے لیے وہاں سے بھاگنا پڑا۔
صحافی کے مطابق وہ مدرسے سے نکلنے کے بعد دو سے تین گلیاں عبور کرکے ایک محفوظ مقام پر پہنچے، جہاں انہوں نے ویڈیو پیغام کے ذریعے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ صرف ایک عوامی اہمیت کے معاملے پر رپورٹ تیار کرنے اور متعلقہ افراد سے سوالات کرنے گئے تھے، لیکن انہیں سوالات کے جواب دینے کے بجائے ہراساں کیا گیا۔
آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے نے سوال اٹھایا کہ کیا بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیوں اور سرکاری نوٹس کے بارے میں سوال کرنا جرم ہے؟ کیا کسی صحافی کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرنے پر اس طرح کے سلوک کا سامنا کرنا چاہیے؟
صحافی نے مدرسے کے طلباء کے رویے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے ادارے میں، جہاں دین اور اسلام کی تعلیم دی جاتی ہے، رپورٹنگ کے لیے آنے والے شخص کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کیوں کیا گیا؟
نمائندے نے بتایا کہ وہ مدرسے کے حوالے سے سی ڈی اے کے نوٹس پر حقائق جاننے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن متعلقہ سوالات کے جواب حاصل کرنے کے بجائے انہیں اپنی حفاظت کے لیے وہاں سے نکلنا پڑا۔